ورن گاندھی کو رہائی نہ مل سکی

بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار ورن گاندھی کی مسلم مخالف اشتعال انگیز بیانات کے معاملے میں ضمانت تو منظور ہوگئی تاہم اترپردیش حکومت کی جانب سے ان کےخلاف قومی سلامتی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیے جانے کی وجہ سے انہیں رہا نہیں کیا گیا ہے۔
ورن گاندھی کے خلاف اتوار کو اترپردیش حکومت نے قومی سلامتی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
اترپردیش کی وزیر اعلیٰ مایاوتی کی پرنسپل سیکرٹری وجے شنکر پانڈے نے اتوار کو لکھنؤ میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ ورن گاندھی پر قومی سلامتی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کردیا گیا ہے۔قومی سلامتی قانون کے تحت مقدمہ درج ہونے کے بعد ان کے لیے جیل سے باہر آنا مشکل ہے اور انہیں اس قانون کے تحت ایک برس تک جیل میں رہنا پڑ سکتا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاستی حکومت کے اس اقدام پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا ہے کہ وہ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔پارٹی کے ترجمان پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ ’ابھی ملک میں ایمرجنسی نہیں لگی ہے کہ وہ کسی سیاسی لیڈر کے خلاف قومی سلامتی قانون نافذ کرے۔ ہم اس کے خلاف قانونی کاروائی کریں گے۔‘
اس سے پہلے سنیچر کو جب ورن گاندھی نے پیلی بھیت جاکر اپنے آپ کو عدالت کے سامنے پیش کیا تھا اور اس ان کی پیشی کے بعد مقامی انتظامیہ نے ان کے اور ان کے حامیوں کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا تھا۔ ورن اور ان کے حامیوں پر ہنگامہ آرائی، قتل کی کوشش، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش سے متعلق مقدمات درج کیے گئے تھے۔
اپنی گرفتاری سے پہلے ورن گاندھی نے کہا تھا کہ ’میرے جیل جانے سے اگر لوگوں میں اپنے اصولوں کے لیے لڑنے کی ہمت آتی ہے تو میں جیل جانے کے لیے تیار ہوں‘۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایک سیاسی سازش کے تحت نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ورن گاندھی پر الزام ہے کہ چھ مارچ کو انہوں نے اپنے حلقے میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔ ورن گاندھی نے ان الزامات کو پوری طرح مسترد کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا تھا۔ ورن گاندھی کی ماں مانیکا گاندھی نے بھی گزشتہ روز کہا تھا کہ ورن گاندھی کو سیاسی سازش کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ورن گاندھی کی مبینہ تقریر کا الیکشن کمیشن سخت نوٹس لیا تھا اور کمیشن کی ہدایات پر ہی ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے حال ہی میں کہا تھا کہ یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری ورن گاندھی پر ہے کہ ان کے خلاف ثبوت کے طور پیش کی جانے والی سی ڈی میں چھیڑ چھاڑ ہوئی یا نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمیشن نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ وہ پیلی بھیت سے ورن گاندھی کو اپنا امید وار نہ بنائے لیکن بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے اس مشورے کو مسترد کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پیلی بھیت سے ورون گاندھی ہی اس کے امید وار ہوں گے۔
اپنے متنازعہ خطاب میں ورن گاندھی نے مہاتما گاندھی کے مشہور عدم تشدد کے فلسفے کو بھی غلط قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ميں اسے بیوقوفی مانتا ہوں کہ اگر کوئی آپ کے ایک گال پر ایک چانٹا مارے تو آپ دوسرا گال آگے کر دیں ۔۔۔۔اس کے ہاتھ کاٹ دو تاکہ وہ کسی دوسرے پر بھی ہاتھ نہ اٹھا سکے۔



















