ورون گاندھی ایٹا جیل منتقل

ورن گاندھی
،تصویر کا کیپشنورن گاندھی کا کہنا ہے کہ میڈیا میں جو سی ڈی دکھائی گئی ہے اس میں ان کی آواز نہیں ہے۔

ریاست اتر پردیش کی پولیس کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے قانون کے تحت بیلی بھیت جیل میں قید ورون گاندھی کو ایٹا جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

انہیں سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت منگل کی نصف رات ایٹا جیل بھیج دیا گیا۔ انتظامیہ نے یہ پوری کوشش کی کہ فوٹوگرافرز تک ان کی فوٹو نہ لا سکیں۔

پیلی بھیت ضلع کے پولیس سپریٹنڈنٹ پراکاش ڈی نے بتایا ہے کہ سرکار کے حکم کے تحت انہیں ایٹا منتقل کیا گیا ہے۔

ادھر ورون گاندھی کی حمایت میں پہلے سے ہی وشو ہندو پریشد نے بدھ کو پیلی بھیت بند کی کال دی ہے۔

حالانکہ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے کے معاملے میں پیلی بھیت کی مقامی عدالت سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار ورون گاندھی کو ضمانت مل چکی ہے لیکن ان پر قومی سلامتی قانون عائد ہونے کے سبب وہ جیل سے باہر نہیں آ پائے تھے۔

اتر پردیش کی حکومت نے مسلم مخالف تقریر کرنے کے معاملے پر ان پر قومی سلامتی ایکٹ ‏(این ایس اے )عائد کر دیا تھا۔

سماج وادی پارٹی کے رہمنا اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی ملائم سنگھ نے کہا ہے کہ ورون گاندھی پر این ایس اے جیسا سخت قانون عائد کرنے کے پیچھے اتر پردیش کی وزیر اعلی مایاوتی اور بی جے پی کی ملی بھگت ہے۔

حالانکہ بہوجن سماج پارٹی کے سیئنر رہنما ستیش مشرا نے سخت الفاظ میں اس الزام کی تردید کی ہے اور انہوں نے ملائم سنگھ یادو کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اتر پردیش میں مایاوتی حکومت نے ورن گاندھی کے خلاف سخت قدم اٹھا کر مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

ابھی تک اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کو مسلمانوں کے بڑی تعداد میں ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔

ماہرین ورون گاندھی کو ایٹا بھیجے جانے کا بھی سیاسی معنی نکال رہے ہیں کیونکہ اس سیٹ سے کلیان سنگھ آزاد امیدوار ہیں۔

ورون گاندھی نے پیلی بھیت میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کے معاملے میں پیلی بھیت کی مقامی عدالت میں خود کو پیش کر دیا تھا۔

اس دوران کافی تشدد ہوا تھا جس میں تقریباً پچاس افراد زخمی ہوئے تھے۔ بعض زخمیوں کو ہسپتال ميں بھی داخل کروایا گیا تھا۔

انتخابی کمیشن کے حکم پر انتظامیہ نے ورون گاندھی کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا تھا۔