' ورن کو ڈانٹ پڑے، لیکن ڈانٹے کون'

ورن گاندھی
،تصویر کا کیپشنورن گاندھی نے اپنی ایک انتخابی مہم میں مبینہ طور پر مسلم مخالف اشتعال انگیز بیانات دیئے تھے۔
    • مصنف, سنجیو شریواستو
    • عہدہ, بی بی سی، دلی

ورن گاندھی پر قومی سلامتی ایکٹ لگانا کتنا صحیح ہے؟ الیکشن کمیشن کا بھارتیہ جنتا پارٹی کو یہ رائے دینا کہ وہ ورن کو اپنا انتخابی امیدوار نہ بنائے یہ صحیح یہ غلط؟ بھارتیہ جنتا پارٹی، بہوجن سماج واددی پارٹی اس معاملے کو کیسے بھنا رہی ہے؟ کیا اترپردیش میں ورن گاندھی کی وجہہ سے سیاسی تال میل بدلیں گے ؟ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس سے فائدہ ہوگا یا نقصان؟

سیاسی تجزیہ کار ان سبھی اشوز پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن میرے لیے یہ پوری بحث بے معنی ہے۔

میری سمجھ میں اصلی مسئلہ کچھ اور ہے اور اس کے نتائج کو 2009 کے انتخاب کے سیاسی تال میل سے جوڑ کر نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔

ورن کے بیانات سے دیش کے مستقبل کے تئیں من میں ڈر پیدا ہوتا ہے۔

مجھے تعجب اس بات پر ہے کہ ورن گاندھی جیسا نوجوان اس طرح کی زبان بول سکتا ہے اور اس طرح کی سوچ رکھ سکتا ہے۔

میں نے ورن گاندھی جیسا نوجوان اس لیے نہیں کہا کہ ان کے نام کے ساتھ گاندھی خاندان اور اسکی تاریخ جڑی ہے۔ وہ تو ایک وجہہ ہے ۔ میں حیران ہوں اور دکھی ہوں کے ورن سماج کےاس طبقے کی عکاسی کرتے ہیں جس کے پاس سب کچھ ہے۔

راہل اور پرینکا گاندھی سے موازنہ کرکے اگر ورن پر کتنا بھی ترس کھائیں تو قسمت اور بھگوان کے اس فیصلے کا جواب ورن کو اس طرح نہیں دینا چاہیے تھا۔ بھلا اپنی سیاسی تقدیر سنوارنے کا یہ کوئی طریقہ ہوا۔

اپنی غلطی قبول کرنے اور ایماندار ی سے معافی مانگنے کے بجائے ورن اس معاملے پر سیاست کرنے نکل پڑے۔

ورن کے بیانات سے ملک کے مستقبل کو لیکر من میں ڈر پیدا ہوتا ہے۔ جس لڑکے کی اتنی اچھی تعلیم، دولت کی کمی نہ ہو، با تہذیب ہو اور جس نے دنیا دیکھی ہو اور جو نوجوان ہو۔ وہ ہاتھ سے ہاتھ ملاکر دیش جوڑنے کی نہیں ہاتھ کانٹنے کی بات کرے تو کیا یہی ہماری اور ہمارے ملک کی قسمت ہے؟

پہلے میں نے سوچا نادان ہے، جزبات میں یہ سب بول گیا ہوگا۔لیکن اپنی غلطی ماننے کے بجائے وہ اس پر سیاست کرنے نکل پڑا۔ ورن کی نہ صرف زبردست تنقید ہونی چاہیے بلکہ اس پر ڈانٹ پڑنی چاہیے۔ لیکن ڈانٹے کون؟

ورن کی ماں مینکا گاندھی پیلی بھیت پہنچی اور اسے صلح دینے کے بجائے وہاں ہوئے تشدد کا سارا ذمہ ایک مسلمان پولیس والے کے سر مڑھ دیا۔ ہوسکتا ہے کہ اس پولیس اہلکار کی ہی غلطی ہو لیکن کیا مینکا گاندھی کو یہ سب کرنا زیب دیتا ہے۔

ورن کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کا تو حال اور بھی عجیب و غریب ہے۔یا یہ کہیے پارٹی میں بعض لوگوں کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ ورن گاندھی سے کنارہ کر اس کو ہیرو بننے سے روکیں یا پھر ورن کو ہندوتو کا نیا چہرہ بننے دیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک طبقے کو ورن گاندھی سے جلن ہے۔ ایک سینئر بی جے پی ممبر پارلمیان نے مجھے بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا وہ طبقہ جو خود کو ہندوتو کا ٹھیکیدار سمجھتا ہے وہ ورن کو اچانک اتنی پبلسٹی ملنے کی وجہہ سے حیران اور پریشان ہے۔

انکا کہنا تھا کہ انہوں نے اتنی تحریکیں چلائیں، ہندوتو کے لیے سڑک پر اتریں، کبھی فسادات ہوئے تو کبھی مسجد گریں، مطلب یہ کہ اتنے پاپڑ بیلے ہندتو کے لیے تب جاکر نام کمایا۔ اس پر یہ ورن گاندھی- ' کل کا چھوکرا' محض ایک انتخابی تقریر کرکے پارٹی کا پوسٹر بوائے بنا گیا۔

چلتے چلتے ایک بات اور۔۔۔۔ گزشتہ کچھ دنوں میں بہت سے لوگوں نے ورن کے اس معاملے کے بعد سنجے گاندھی کو یاد کیا۔ لوگوں نے لکھا کہ پتہ نہیں سنجے ہوتے تو کیا کہتے؟

لیکن سنجے گاندھی کے قریبی سمجھے جانے والے ودھیا چرن شکل کی بات سن کر مجھے اچھا لگا۔ انہوں نے ایک انٹریو میں کہا' اگر آج سنجے گاندھی ہوتے ہو ورن کا کان پکڑ کر اس کی عقل ٹھکانے لگا دیتے'۔