جمہوریت کے لیے اچھی خبر

لالو یادو
،تصویر کا کیپشنانیس سو اکسٹھ کے بعد لالو پرساد یادو بہار کے پہلے وزیر اعلی تھے جنہوں نے اپن عہدے کی مدت پوری کی۔
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

میں تقریباً دس سال کے بعد بہار گیا تو دو نمایاں فرق نظر آئے۔ ایک تو یہ کہ ریاست پر لالو پرساد یادو کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے اور دوسرا کہ لوگ اب صرف ذات پات اور جذبات کی بنیاد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں، وہ ترقی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ لالو پرساد یادو پہلی مرتبہ انیس سو نوے میں بہار کے وزیر اعلی بنے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کی تحریک عروج پر تھی۔ انہوں نے بی جے پی کی رتھ یاترا روک کر، اور لال کرشن اڈوانی کوگرفتار کر کے اپنی ایک سیکولر پہچان بنائی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ تھی کہ انہوں یادو اور مسلمان ووٹروں کو متحد کرکے ایک ایسا ووٹ بینک تیار کیا جس نے بہار کی سیاست کی شکل ہی بدل دی۔

انیس سو اکسٹھ کے بعد وہ بہار کے پہلے وزیر اعلی تھے جنہوں نے اپنے عہدے کی مدت پوری کی۔

تو سوال یہ ہے کہ پھر لالو کی راشٹریہ جنتا دل کمزور کیوں پڑ رہی ہے؟ میں نے اس سوال کا جواب مقامی لوگوں سے معلوم کیا تو دو باتیں سامنے آئیں: لالو کے دور میں نعرے زیادہ تھے اور ترقی کم اور دوسرا یہ کہ اب مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس کم ہوا ہے جس کی وجہ سے اب وہ صرف سکیورٹی کے نام پر ووٹ دینے کو تیار نہیں ہیں۔

نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مسلم ووٹر اب خاصی تعداد میں لالو کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ یہ شاید ممکن نہ ہوتا اگر لالو سیٹوں کی تقسیم میں کانگریس کو نظر انداز نہ کردیتے۔

لیکن چونکہ ناراضگی میں کانگریس نے تقریباً سبھی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں، لہذا مسلمان ووٹروں کے پاس ایک متبادل موجود ہے جو پہلے نہیں تھا۔ اگر وہ لالو کا ساتھ نہیں دینا چاہتے تو کانگریس کے ساتھ جا سکتے ہیں۔ پہلے ایک طرف لالو تھے دوسری طرف بی جے پی اور نتیش کمار کا اتحاد۔

ووٹر
،تصویر کا کیپشنجمہوریت کے لیے یہ اچھی خبر ہے کہ ووٹر کسی ایک جماعت سے ڈر کر کسی دوسری جماعت کو ووٹ نہ دینے کی جسارت کر رہے ہیں

بہار میں زیادہ تر حلقوں میں سہ رخی مقابلے دیکھنے کو ملے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کانگریس کا ووٹ شیئر یقیناً بڑھے گا، جس کا نقصان براہ راست لالو پرساد یادو کو ہوگا۔ یعنی لالو کی سیٹیں کافی کم ہوسکتی ہیں۔

مسلمانوں کے لیے تحفظ ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ لیکن بہار کے مسلمان کہتے ہیں کہ بھاگلپور کے مسلم مخالف فسادات کی یادوں میں اب وہ شدت باقی نہیں۔ مجھے لوگوں نے بتایا کہ عام مسلمان اب تعلیم کی طرف راغب ہو رہا ہے، وہ ترقی چاہتا ہے جو اسے لالو کے دور میں نہیں ملی۔

بہار کا شمار آج بھی ہندوستان کی غریب ترین ریاستوں میں ہوتا ہے۔ میں چار اضلاع میں گھوما جہاں مجھے جگہ جگہ اس کےشواہد نظر آئے۔ میں نے پٹنہ صاحب حلقے سے بی جے پی کے امیدوار شترو گھن سنہا اور کانگریس کے شیکھر سمن سے پوچھا کہ ان کے خیال میں ریاست کا یہ حال کیوں ہے؟

انہوں نے کچھ جواب تو سیاسی دیے لیکن دونوں نے کہا کہ نتیش کمار جب سے وزیر اعلی بنے ہیں، ریاست میں ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ شتروگھن سنہا نے تو یہ تک کہا کہ بی جے پی کو جو ووٹ ملیں گے، وہ نتیش کے ریکارڈ کی وجہ سے ملیں گے۔

میری جن عام لوگوں سے بات ہوئی، ٹیکسی ڈرائیور، رکشا والے، دوکاندار، تقریباً سبھی نے اس نظریہ کی عکاسی کی۔

نئی حکومت کون بنائے گا، اس کا فیصلہ یوپی اور بہار میں ہی ہوگا۔ لیکن جمہوریت کے لیے یہ اچھی خبر ہے کہ ووٹر کسی ایک جماعت سے ڈر کر کسی دوسری جماعت کو ووٹ نہ دینے کی جسارت کر رہے ہیں۔

ہوسکتا ہےکہ بہار میں اس کا فوری فائدہ بی جے پی کے اتحاد کو ہوجائے، لیکن ہندوستانی جمہوریت کے مستقبل کے لیے یہ اچھی خبر ہے۔