ایک انار، سو بیمار

نتیش کمار
،تصویر کا کیپشنکانگریس اور لیفٹ دونوں ہی نتیش کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں ہیں
    • مصنف, ایم ایس احمد
    • عہدہ, پٹنہ

رواں پارلیمانی انتخابات میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی متوقع کامیابی نے ان کے لیے کئ متبادل فراہم کر دیے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس بات کا خوب چرچہ ہے کہ نتیش کمار کے لیے ہندو نواز بی جے پی سے علیحدگی کی راہ اختیار کرنے کا یہ مناسب موقع ہو سکتا ہے۔

بصرین نتیش کمار کا سیاسی مستقبل کمیونسٹ اور کانگریس پارٹی کے ساتھ دیکھ بھی رہے ہیں۔

بہار میں کانگریس نے لالو سے علیحدگی کو جس جوش و خروش کے ساتھ لیا ہے اس سے یہ گمان غالب ہے کہ مرکز میں کانگریس کی قیادت میں بننے والی حکومت میں بھی لالو کو جگہ نہ دی جائے اور یہ جگہ کانگریس نتیش کمار کی پارٹی کو پیش کر سکتی ہے۔

کانگریس نتیش کمار کی حمایت حاصل کرنے کی زمین کس طرح تیار کر رہی ہے اس کا اندازہ راہل گاندھی اور شیلا دکشت جیسے سینیر رہنماؤں کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔

راہل نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران نتیش کمار کو ' ایک جیسی سوچ' والے لوگوں میں شامل کیا ہے۔ اس سے قبل دلی کی وزیر اعلیٰ شیلا دکشت نے اشارہ کیا تھا کہ نتیش کانگریس کے ساتھ آ سکتے ہیں۔

نتیش کمار کے لیے اس تعلق سے کافی واضح اشارہ کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے بھی مل رہا ہے۔سی پی آئی ایم کے پولت بیورو ممبر سیتارام یچوری حال ہی میں جب پٹنہ آئے تو انہوں نے کہا کہ نتیش کمار کو چاہیے کہ وہ غیر کانگریسی اور غیر بی جے پی حکومت بنانے کی مہم میں شامل ہو جایں۔

اس سے قبل جب نتیش کو یہ بتایا گیا کہ لیفٹ پارٹیز کے بعض لیڈروں نے انہیں 'سیکولر' قرار دیا ہے تو انہوں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

نتیش کمار کہتے ہیں 'ہم بہار میں بی جے پی کے ساتھ حکومت چلا رہے ہیں، اس کے باوجود دنیا کہہ رہی ہے کہ ہم سیکولر ہیں تو یہ کم بڑی بات نہیں۔' بقول نتیش 'کمیونسٹ لیڈر نے اگر ہماری تعریف کی ہے تو غلط تو نہیں کی ہے۔'

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ نتیش کمار کی جتنی مقبولیت ہے وہ ان کے بی جے پی کے ساتھ ہونے کی وجہ سے کافی کم ہے اور خود ان کی پارٹی کی جانب سے کئ بار بی جے پی کی پالیسیوں کے خلاف بیان آتے رہتے ہیں۔

خود نتیش کمار بھی بی جے پی کے متانزعہ ایجنڈے سے اپنی پارٹی کو الگ بتانے میں بالکل دیر نہیں کرتے۔بی جے پی کے منشور میں جب رام مندر کا تذکرہ ہوا تو نتیش کمار نے فوراً بیان دیا کہ یہ بی جے پی کا ایجنڈا ہو سکتا ہے، ا ن کے اتحاد این ڈی کا نہیں۔

اسی طرح ورون گاندھی کے متنازعہ بیان اور نریندر مودی کے معاملے میں سپریم کورٹ کے آرڈر کے بعد ان کے جو بیان آئے وہ بی جے پی کا لائن سے بالکل الگ تھے۔

بی جے پی کے سخت گیر دھڑے اور نتیش کمار کی پارٹی کے درمیان بعض دوسرے امور میں بھی ایک دوسرے کے خلاف بیان جاری ہوتے رہے ہیں۔ بالخصوص بھاگلپور کے فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں نتیش حکومت کے اقدامات کو بی جے پی کے سخت گیر دھڑے کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

سیاسی مبصرین اس جانب بھی دھیان دلاتے ہیں کہ نریندر مودی جیسا بی جے پی کا اسٹار مہم جو اگر بہار نہیں آتا ہے تو اس میں بھی نتیش کمار کی سہولت کا خیال رکھا گیا ہے۔ ایسے میں نریندر مودی کو لال کرشن آڈوانی کے بعد کے وزیر اعظم کے طور پر پیش کیا جانا بھی نتیش کمار کے لیے الگ راہ تلاشنے کی وجہ بن سکتا ہے۔

بہار کی سیاست کے 'چانکیہ' مانے جانے والے نتیش کمار فی الحال تو بی جے پی کے ساتھ رہنے کی ہی بات کہ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیفٹ کے ساتھ جانے کا چرچہ کا کوئی مطلب نہیں۔ اسی طرح شیلا دکشت کے بیان کو بھی انہوں نے مسترد کر دیا ۔

اس چرچہ کے بارے میں لال کرشن آڈوانی سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی ایسے امکان سے انکار کیا مگر ایسا ہی دعوی وہ اڑیسہ کے اپنے اتحادی بیجو جنتادل کے بارے میں بھی کیا کرتے تھے۔

نتیش کی پارٹی جنتا دل یونائٹیڈ کے ترجمان شوانند تواری کہتے ہیں کہ ملک بھر میں نتیش ماڈل کا چرچہ ہو رہا ہے اور انکے وزیر اعظم بننے کی زمین تیار ہو رہی ہے۔ مسٹر تواری دراصل اس صورت حال کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جب کانگریس اور بی جے پی دونوں کے اتحاد کو اکثریت حاصل نہ ہو۔

تواری نے کئ بار کھل کر بی جے پی کی پالیسیوں کی کھل کر مخالفت کی ہے اور مبصرین کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ بلا وجہ نہیں ہے۔