بہار: ذات کا اشو اہم یا ترقی؟

بہار کا ووٹر
،تصویر کا کیپشنبہار میں سبھی چالیس سیٹوں پر پولنگ ہو چکی ہے

بی بی سی کی خصوصی الیکشن ٹرین پٹنہ میں ہے۔ وہاں پہنچ کر بی بی سی کے صحافیوں سے ملاقات کرتے ہوئے بہار کے سابق وزیر اعلی اور مرکزی وزیر لالو پرساد یادو نے جب یہ بیان دیا کہ ' بہار میں ترقی نہیں ذات اہم اشو ہے' تو یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ کیا بہار میں واقعی یہی اصلیت ہے؟ اور دوسرا سوال یہ کہ بہار کے عوام اس بات سے کتنے متفق ہیں؟

بہار میں عوام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لالو پرساد یادو کے 15 سال کے دورہ اقتدار کے دوران جو بہار تھا اس سے نتیش کمار کےتین سال کے دور والا بہار بہت آگے ہے اور انہیں ایسا ہی بہار چاہیے جو ترقی کرے اور جہاں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہو۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ذات ایک اہم اشو ہوسکتا ہے لیکن جب ووٹ پڑتے ہیں تو ذات سے زیادہ ترقی کے نام پر پڑتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ 2005 میں جو نتیش حکومت بنی تھی آج بیشتر لوگ اس سے خوش ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ بہار ترقی کرے۔

پٹنہ یونیورسٹی کے ایک طالب علم آشیش جھا کا کہنا ہے ' بہار میں آج سڑکیں ہیں، بجلی ہے، ہسپتال ہیں۔ لالو پرساد یادو نے مسلمانوں اور نچلے طبقے کے لوگوں کو گول مول گھمایا ہے لیکن آج لوگوں کے پاس نوکریاں ہیں اور یہاں تک کہ ایک مسلمان عورت بھی گھر سے باہر نکل رہی ہے اور ملازمت کر رہی ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ لالو پرساد نے صرف ایک ہی کام اچھا کیا تھا اور وہ تھا نچلے طبقے میں اعتماد پیدا کرنا تاکہ وہ محسوس کر سکیں کہ وہ کسی سے کم نہیں۔ لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگر وہ اس کے بدلے ان کی ترقی کے بارے میں سوچتے تو بہار بہت آگے ہوتا۔

مقامی صحافی واجی احمد تصور کا کہنا ہے کہ ' لالو کا راج صرف باتوں کے بارے میں تھا۔ وہ صرف باتیں کرتے تھے۔ کام نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی اس کی طرف لوگوں کا دھیان مرکوز کیا تھا۔ انہوں نے غریبی کو رومانٹیسائز کیا تھا۔ نتیش کمار نے نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے بلکہ سب سے بڑی کامیابی یہ ہے انہوں نے 12 ویں جماعت تک کے اسکولوں میں نوکریوں میں خواتین کو پچاس فی صد رزرویشن دیا'۔

بیشتر لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ترقی ضروری ہے نہ کہ ذات پات اور جن لوگوں کے لیے ذات کا اشو اہم ہے انہیں بھی ترقی تو چاہیے؟

آشیش جھا کے مطابق لالو پرساد نے صرف ایک ہی کام اچھا کیا تھا وہ یہ ہے کہ نچلے طبقے میں اعتماد پیدا کرنا
،تصویر کا کیپشنآشیش جھا کے مطابق لالو پرساد نے صرف ایک ہی کام اچھا کیا تھا وہ یہ ہے کہ نچلے طبقے میں اعتماد پیدا کرنا

پٹنہ میں سیاسی تجزيہ کار اور ایشین ڈیویلپمنٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری شہیبال گپتا کا کہنا ہے ’ یہ غلط ہوگا کہ ترقی لالو کے زمانے میں نہیں ہوئی تھی۔ بہار میں آزادی کے بعد سے ہی کبھی ترقی نہیں ہوئی تھی۔اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہاں کبھی مضبوط سرکاری عملہ نہیں تھا اور نہ ترقی ایک ایجنڈہ تھا۔ نتیش نے سرکاری عملے کو مضبوط کرنے کا کام کیا ہے اور ڈیویلپمنٹ کو ایجنڈہ بنایا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے ' لالو اور نتیش دو الگ الگ ایجنڈہ لے کر آئے تھے۔ لالو نےشناخت کو ایجنڈہ بنایا تو نتیش نے ترقی کو۔ لالو کی پارٹی کے ساتھ اتحاد ٹوٹنے کے بعد نتیش کو یہ سمجھ آگیا تھا کہ شناخت کے اشو پر وہ جیت حاصل نہیں کرسکتے تھے'۔

پٹنہ میں ہندوستان نامی اخبار کے سینئر صحافی شری کانت کا کہنا ہے کہ ' بہار میں ترقی ہوئی ہے لیکن یہ ترقی صرف شہروں تک محدود ہے اور ابھی بھی دیہی علاقوں میں بجلی، پانی اور سڑکوں کی قلت ہے۔'

انکا مزید کہنا ہے کہ نتیش کمار بہار کے لیے لالو کی نسبت زیادہ پیسہ لے کر آئے ہیں جو کہ دکھائي دیتا ہے۔

وہ کہتے ہيں کہ بہار میں 42 فی صد افراد ابھی بھی غریبی کی لیکر سے نیچے رہتے ہیں۔ ' بہار میں اگر سب کے لیے ترقی ہوئی ہوتی تو اتنی بڑی تعداد میں مائگریشن نہ ہوتا۔ آج بھی بہار میں بہت بڑی تعداد میں لوگ 8 روپے میں ایک دن گزارتے ہیں'۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے بہار کی عوام کے لیے ذات ایک اہم اشو ہے لیکن ترقی انکے لیے ذات سے اہم ہے کیونکہ اس سے ان کی زندگی کا چلنا یہ نہ چلنا طے ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ لالو کی باتوں میں نہ آکر 'حقیقت پسند' نتیش کو ترجیج دیتے ہیں۔ ترقی کی باتیں انہیں اچھی لگتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہیں نتیش کے تین برس والے راج والا بہار پسند ہے نہ کہ لالو کے پندرہ برس۔