انڈیا ڈائری: بابابؤں کا چمتکار۔۔۔
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
فوجی کچھ دن پہلے آپ نے سنا ہوگا کہ زمین کے ایک معاملے میں تین جرنیلوں کے خلاف کورٹ مارشل کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ کارروائی تو ابھی جاری ہے، اس کا ذکر پھر کبھی کریں گے۔ آج میری نظر جس خبر پر رکی ہے وہ فوج کی ایک خاتون میجر کے بارے میں ہے جنہیں فوجی عدالت نے بدعنوانی کے الزام میں ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔
میجر ڈمپل سنگلا سن دو ہزار سات میں ریٹائر ہوگئی تھیں۔ اس سے ایک سال قبل انہوں نے خود ایک فوجی عدالت کی سربراہی کرتے ہوئے ایک حولدار کے حق میں فیصلہ سنانے کے لیے دس ہزار روپےکی رشوت لی تھی۔
بدعنوانی یا ایمانداری انسان کا ذاتی معاملہ ہے، لہذا اس بارے میں تو میں کچھ نہیں کہنا چاہتا لیکن ایسے افسران مارکٹ ریٹ بگاڑ دیتے ہیں!
تقریباً دس سال پہلے تہلکہ کے سٹنگ آپریشن نے ہندوستانی فوج میں مبینہ بدعنوانی کا پردہ فاش کیا تھا۔ بہت سے سرکردہ افسران پر بڑے بڑے الزامات لگے، کچھ برگیڈیرز اور جرنیلوں کا بھی نام آیا، جن میں سے ایک نے تو صرف شراب کی بوتل کے بدلے ہی تہلکہ کے صحافیوں کی مدد کرنے کا وعدہ کرلیا تھا! (یہ لوگ اسلحہ کے ڈیلر بن کر فوجی افسران سے ملے تھے)۔
ہندوستان اور پاکستان کی فوج میں ہمیشہ ہی مقابلہ آرائی کا ماحول رہتا ہے۔ پاکستانی کالم نگار ایاز امیر بھی فوج کے سابق افسر ہیں۔اس سٹنگ آپریشن کے بعد انہوں نے ایک بڑے پاکستانی اخبار میں لکھا کہ بدعنوانی سے پاکستانی فوج بھی اچھوتی نہیں۔۔۔ اس کے افسر بھی بڑے بڑے کارنامے انجام دیتے ہیں، لیکن پاکستانی فوج کا کوئی افسر کبھی ایک بوتل شراب کے لیے نہیں بک سکتا!
میجر سنگلا، ہندوستانی فوج کی عزت کا کچھ تو خیال کیا ہوتا۔
بابابؤں کا چمتکار

فوجی ملک کی سرحدوں کے نگہہ بان ہے، لہذا افسران کے خلاف زیادہ کچھ کہنا سمجھ داری کا کام نہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کی بڑی اکثریت فرض شناس بھی ہے اور ایماندار بھی۔ اور شاید یہی بات سادھو مہاتماؤں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
لیکن ان کا کیا جن کے پاس لوگ روحانی تسکین کے لیے جاتے ہیں لیکن جو خود دوسرے دھندوں میں لگے ہوئے ہیں؟
گزشتہ ہفتے پولیس نے ایک ہائی پروفائل بابا کو گرفتار کیا، الزام یہ کہ وہ بڑے پیمانے پر جسم فروشی کا دھندا چلا رہے تھے۔ ان کے پاس کروڑوں روپےکی املاک بتائی گئی ہے، اور ان کے پاس کام کرنے والی لڑکیوں میں پولیس کے مطابق سابق ائر ہوسٹس، کالج سٹوڈنٹس اور ماڈلز شامل تھیں جن سے جنسی کاروبار کروا کر وہ کروڑوں روپے کماتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اور اب کرناٹک میں ایک ٹی وی چینل نے ایک بابا کا ویڈیو ٹیپ نشر کیا ہے۔ ٹیپ میں کیا کچھ ہے، لکھتے ہوئے شرم آتی ہے، آپ خود ہی سمجھ جائیں تو اچھا ہوگا۔
بابا انکاری ہیں، کہتے ہیں کہ ویڈیو میں جو شخص عظیم کارنامے انجام دے رہا ہے، وہ کوئی اور ہے لیکن اس کے باوجود عدالت نے ٹیپ کے ٹیلی کاسٹ پر پابندی لگانے سے انکار کر دیا ہے۔
یہ بہت با صلاحیت لوگ ہیں، ہو سکتا ہے کہ صرف انکساری سے کام لے رہے ہوں!
راہول کی شادی
نہیں، راہول گاندھی کی نہیں، راہول مہاجن کی، جو ٹی وی پر ایک رئیالٹی شو کے ذریعے شادی کرنے والے ہیں۔ راہل کے والد پرمود مہاجن بی جے پی کے ایک بڑے رہنما تھے جنہیں ان کے اپنے ہی بھائی نے قتل کر دیا تھا۔
کچھ عرصہ پہلے تک راہول کی ریپوٹیشن زیادہ اچھی نہیں تھی۔اب سنا ہے کہ وہ بدل گئے ہیں۔ لیکن یہ خبر بہت سے لوگوں تک نہیں پہنچی ہے۔ اسی لیے شاید میں نے کسی کو کہتے ہوئے سنا کہ اب پروگرام میں صرف تین لڑکیاں باقی بچی ہیں، چھ مارچ کو(جب شادی ہوگی یا شادی کے لیے دلہن کا انتخاب ہوگا) ان میں سے دو بچ جائیں گی!





















