کشمیر:مزید ہلاکتیں، امن کی اپیل

کشمیر، فائل فوٹو
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ریپِڈ ایکشن فورس یا آّر اے ایف کی تعیناتی کے فوراً بعد فائرنگ میں ایک نوجوان اور ایک پچاس سالہ شہری کی ہلاکت کے سبب جمعرات کی صبح سرینگر کے بعض علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی۔

پچھلے ہفتے فورسز کی فائرنگ میں زخمی ہوئے ایک نوجوان نے بھی ہسپتال میں دم توڑ دیا ہے۔

<link type="page"><caption> خواتین کا احتجاج، تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2010/08/100805_kashmir_pic_gallary.shtml" platform="highweb"/></link>

وادی میں جاری پچپن روزہ کشیدگی کے دوران مظاہرین کے خلاف پولیس اور نیم فوجی دستوں کی کارروائیوں میں ہلاکتوں کی تعداد سینتالیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ سینکڑوں زخمی مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

اِدھر سخت گیر مؤقف رکھنے والے سید علی شاہ گیلانی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مظاہروں کے دوران سنگ بازی، آتش زنی اور دیگر تشدد کی کارروائی سے گریز کریں۔

کشمیر، فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنتمام طرح کی بندشوں کے باوجود کشمیرمیں احتجاج جاری ہے

سرینگر کی پرانی بستی گنپت یار کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہاں کے رہنے والے غلام نبی بڑھیاری بدھ کی شام سبزی خریدنے سڑک پر نکلے تو فورسز اہلکاروں نے انہیں نشانہ بنا کر قتل کردیا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے فائرنگ سنگ بازوں کے خلاف ہو رہی تھی جس کی زد میں پچاس سالہ بڑھیاری بھی آگئے۔

جمعرات کی صبح جب بڑھیاری کی لاش سخت ترین کرفیو کے دوران ان کے آبائی گھر پہنچائی گئی تو مقامی اور ملحقہ بستیوں کے لوگ ان کے جنازہ میں شرکت کے لیے سڑکوں پر نکلے۔ لیکن پولیس اور آر اے ایف اہلکاروں نے انہیں منتشر کردیا اور جنازے میں چند لوگوں کو شرکت کی اجازت دی۔

بدھ کی شام سرینگر کی نواحی بستی بیمی ناہ میں فورسز کی فائرنگ میں محمد یعقوب نامی نوجوان مارا گیا۔ اس کے بعد شہر کی مسجدوں میں لوگوں نے احتجاج کیا اور لاؤڈ سپیکروں پر لوگوں سے اپیل کی کہ وہ مظاہرہ کریں۔ دوسرے اضلاع میں حالات قدرے بہتر ہیں تاہم آر اے ایف کی تعیناتی کے خلاف لوگوں میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

دو اگست کو وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کے کہنے پر آر اے ایف کی کئی کمپنیوں کو وادی کے مختلف قصبوں میں تعینات کیا گیا تھا۔

دریں اثناء سخت گیر علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور مظاہروں کے دوران تشدد سے گریز کریں۔

انہوں نے بدھ کے روز کو طویل نظربندی کے بعد رہا ہونے پر زور دے کر کہا کہ ’تشدد، سنگ بازی اور عمارتیں نذرآتش کرنے کا عمل تحریک کے مفادات کے خلاف ہے۔ اس سے بھارت نوجوانوں کی ہلاکتوں کو جائز ٹھہراتا ہے۔‘

گیلانی کی اپیل کے بعد چند ایک مقامات پر ہلکے پتھراؤ کو چھوڑ کر ابھی تک حالات پرامن ہیں۔ تاہم جن علاقوں میں ہلاکتیں ہوئی ہیں وہاں لوگوں میں فورسز اور پولیس کے خلاف زبردست غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

مسٹر گیلانی نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ حریت کانفرنس کے پروگرام پر سختی سے عمل کریں۔ تازہ کال کے مطابق بدھ، جمعرات، جمعہ اور سنیچر کو ہڑتال اور انتہائی پرامن مظاہروں کی اپیل کی گئی ہے۔