’فسادات گجرات کا داخلی معاملہ‘

گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے ایک امریکی سفارتی اہلکار سے بات چیت کے دوران ریاست میں سن دو ہزار دو کے مذہبی فسادات’ کو ایک داخلی گجراتی معاملہ '' بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے میں امریکہ کو مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔
یہ انکشاف وکی لیکس کے جاری کردہ ایک خفیہ امریکی سفارتی مراسلے میں کیا گیا ہے جو ستائیس نومبردو ہزار چھ کو بھیجا گیا تھا۔ اس مراسلے کو بھارتی اخبار دی ہندو نے شائع کیا ہے اور بھارتی ذرائع ابلاغ میں اس پر بحث و مباحثہ بھی ہو رہا ہے۔
امریکی سفارتکار مائکل ایس اوون نے نریندر مودی سے بات چیت کے دوران جب یہ کہا کہ امریکہ کو اس بات پر تشویش ہے کہ ان فسادات کے سلسلے میں کسی کو سزا نہیں دی گئی ہے تو مودی ناراض ہوگئے۔
انہوں نے گوانتانامو بے، ابو غریب اور نائن الیون کے بعد امریکہ میں سکھوں پر ہونے والے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ امریکہ خود انسانی حقوق کی صریحا خلاف ورزیوں کا مرتکب رہا ہے‘ لہذا اسے ایسے معاملات میں بولنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔
اور اس کے بعد مودی نے پوچھا کہ جب گجرات کے مسلمانوں کی حالت دوسری ریاستوں میں رہنے والے مسلمانوں سے کہیں بہتر ہے لہذا لوگ کس بات کی شکایت کر رہے ہیں؟
گجرات میں سن دو ہزار دو میں بڑے پیمانے پر مذہبی فسادات ہوئے تھے جس میں کہا جاتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں مسلمان مارے گئے تھے۔
خود وفاقی حکومت نے اعتراف کیا تھا کہ فسادات میں سات سو نوے مسلمان اور دو سو چون ہندو مارے گئے تھے۔ لیکن غیر سرکاری اداروں کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔
نریندر مودی پر الزام ہے کہ انہوں نے فسادات کو روکنے کے لیے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی تھی اور اس سلسلے میں ان سے سپریم کورٹ کی قائم کردہ خصوصی تفتیشی ٹیم نے گزشتہ برس پوچھ گچھ بھی کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بہرحال، جواب میں مائکل اوون نے کہا کہ تشویش صرف امریکہ کو ہی نہیں ہے، ہندوستان کے اپنے انسانی حقوق کمیشن نے بھی کہا تھا کہ فسادات کو روکنے میں ریاستی حکومت پوری طرح ناکام رہی اور یہ کہ ابو غریب (قیدخانہ) جیسے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر سکتا ہے لیکن پھر ان کی تفتیش اور قصوروار افراد کو سزا دینےکے لیے بھی نظام موجود ہے اور ’ ہم اور دوسرے لوگ گجرات میں بھی یہ ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔‘
اس ملاقات سے ایک سال پہلے امریکہ نے فسادات میں نریندر مودی کے مبینہ کردار کی وجہ سے ان کا امریکہ کا ویزا منسوخ کر دیا تھا۔
سفارتی اہلکار کی جانب سے یہ کہے جانے پر کہ قصوروار افراد کو سزا ملنے کا امکان کم ہی لگتا ہے، نریندر مودی نے کہا کہ انیس سو ترانوے کےممبئی بم دھماکوں کے ملزمان کو اب (دو ہزار چھ) سزا ملنی شروع ہوئی ہے لہذا ’غیر حقیقت پسندانہ توقعات‘ نہیں رکھی جانی چاہئیں۔‘
مراسلے کے مطابق یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تفتیش جاری ہے، نریندر مودی نے بات بدلتے ہوئے کہا کہ ’گجرات میں مسلمانوں کی حالت کسی بھی دوسری ریاست کے مقابلے میں بہتر ہے۔۔۔بی جے پی نے بلدیاتی انتخابات میں مسلمانوں کی اکثریت والے اضلاع میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔۔۔گجرات میں اب فرقہ وارانہ تعلقات اب اچھے ہیں۔‘
مراسلہ ختم کرتے ہوئے مائکل اوون نے کہا کہ’ یہ بات تو واضح ہے کہ مودی فسادات کے لیے معافی نہیں مانگیں گے، لیکن میرے خیال میں انہیں یہ بتانا ضروری ہے کہ ہم وقت گزرنے کے ساتھ ان واقعات کی یاد ماند ہیں پڑنے دیں گے۔






















