لوئر دیر میں جھڑپیں، تئیس شدت پسند ہلاک

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع لوئر دیر کے علاقے کلپانی میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں میں تئیس شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق پیر کو لوئر دیر کے علاقے تمیر گرہ میں فوجی کیمپ پر خودکش حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کی گرفتاریوں کے لیے کارروائی شروع کی ہے۔
حکام کے مطابق منگل کو اس کارروائی کے دوران کلپانی کے علاقے میں جھڑپوں کے دوران تئیس شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔
سرکاری اہلکاروں نے بتایا ہے کہ لوئر دیر ضلع کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن پیر اور منگل کی درمیانی شب کو شروع کیا گیا تھا۔ اس دوران متعدد مشکوک مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں۔
ضلع دیر کے پولیس افسر ممتاز زرین نے پشاور میں ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ اس کارروائی کے دوران دو سو چوراسی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
ایک سوال کہ گرفتار کیے گئے افراد میں سے کوئی اہم مطلوب ملزم شامل ہے پر انھوں نے کہا کہ اس بارے میں تفتیشی ٹیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں جو پوچھ گچھ کر کے اصل ملزمان کی نشاندہی کر سکیں گے۔
ادھر لوئر دیر سے مقامی لگوں نے بتایا ہے کہ پیر کی رات سے ضلع بھر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا اور گھر گھر تلاشی لی گئی ۔
یاد رہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن دو ہزار آٹھ میں شروع کیا گیا تھا۔ اس کارروائی میں حکام کے مطابق بڑی تعداد میں عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا اور بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی گئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لوئر دیر کا یہ علاقہ ملاکنڈ ڈویژن کا حصہ ہے اور شدت پسندوں کا ایک نشانہ رہا ہے۔اس سال فروری میں بھی دیر کے علاقے میں ایک ریموٹ کنٹرول دھماکے میں تین امریکی فوجیوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ اس سال اپریل میں جشن خیبر پختونخواہ کے موقع پر بھی دھماکے سے تینتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔





















