لوئردیر: چیک پوسٹ پر حملہ، تیرہ اہلکار ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع لوئر دیر میں افغانستان کےجنگجووں نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں تیرہ اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔
یہ حملہ جمعرات کی صبح پاک افغان سرحد پر واقع خرکئی کے علاقے میں قائم ایف سی کی چیک پوسٹ پر کیا گیا تھا۔
پشاور میں ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ ایف سی کے ترجمان کے مطابق جمعرات کو افغانستان کی جانب سے شدت پسند پاکستان میں داخل ہوئے اور انہوں نے ایف سی کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں تیرہ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں نو ایف سی کے، تین پولیس اور ایک لیوی اہلکار شامل ہے۔
مالاکنڈ ڈویژن میں طالبان کے ترجمان ہونے کا دعویٰ کرنے والے والے عمر حسن اعرابی نے طالبان کی طرف اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
انہوں نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ اس حملے میں طالبان نے سکیورٹی کے درجنوں اہلکاروں کو ہلاک کیا۔
عمر حسن نے مزید کہا کہ حملے کے دوران طالبان نے تین گاڑیاں اور بڑی مقدار میں اسلح بھی اپنے قبضہ میں لیا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ گاڑیوں کو بعد میں آگ لگا دی گئی تھی۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چیک پوسٹ پر حملے کے لیے کئی سو طالبان سرحد عبور کر کے افغانستان سے علاقے میں داخل ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ جمعرات کو افغان حکومت نے بھی عسکریت پسندوں کی جانب سے کیے جانے والے اس حملے کی تصدیق کی تھی۔
ایف سی کے ترجمان کے مطابق جمعرات کی صبح پانچ بجے کے قریب تقریباً دو سو شدت پسندوں نے خرکئی کے علاقے میں سکول میں قائم چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔
اس حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور کرفیو نافذ کردیا۔ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی اور چوکی پر جمعہ کے روز دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ علاقے میں ابھی بھی کرفیو نافذ ہے۔
دوسری جانب افغانستان میں بھی حکام نےاس بات کی تصدیق کی ہے کہ سرحدی مقام پر جھڑپ ہوئی ہے۔
افغان حکام کے مطابق یہ حملہ مشتبہ شدت پسندوں نے کیا ہے۔
خیال رہے کہ خرکئی ضلع لوئر دیر کا ایک دور افتادہ پہاڑی علاقہ ہے اور اس علاقے سے پاک افغان سرحد تقریباً آٹھ دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔





















