دیر: دھماکے میں چار افراد ہلاک

دیر میں اس پہلے متعدد بار شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز پر حملے کیے ہیں

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشندیر میں اس پہلے متعدد بار شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز پر حملے کیے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر پایاں میں پولیس کے مطابق بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والےعام شہری ہیں جن میں ایک مریض بھی شامل ہے۔

دیر میں ایک پولیس اہلکار شیر حیات خان نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ منگل کی صُبح دیر پایاں کے صدر مقام تیمر گرہ سے تقریباً تین کلومیٹر دور مغرب کی جانب تحصیل ثمر باغ کے علاقے غورہ غنڈئی میں ایک گاڑی اس وقت ایک بارودی سے ٹکراگئی جب وہ ایک مریض کو لے کر ہسپتال کی طرف جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چاروں افراد ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک مریض بھی شامل ہے۔

اہلکار کے مطابق کے دھماکے سے بیجوں کار بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ بیجوں کار نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ہیں جو علاقے میں لوگ مسافر گاڑیوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا ہے وہ ایک پہاڑی سلسلہ ہے۔جہاں پہلے بھی سکیورٹی فورسز اور پولیس پر حملے ہو چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والے عام شہری ہیں۔جن کی کسی سے کسی دُشمنی کی کوئی اطلاع نہیں ہے اور یہ واقعہ علاقے میں جاری شدت پسندی کا ایک سلسلہ معلوم ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ ضلع دیر بالا اور دیر پایاں گزشتہ ایک عرصے سے شدت پسندی کی لپٹ میں ہے جہاں گزشتہ چند مہینوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز پر سرحد کے اس پار سے کئی بار حملے ہو چکے ہیں جس میں درجنوں اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ ضلع دیر سے ملحقہ قبائلی علاقہ باجوڑ ایجنسی سے تحریک طالبان پاکستان نے پچیس بچوں کو اغواء کیا تھا جن میں سے دو بچے گزشتہ ہفتے بھاگ کر اپنے گھر پہنچ گئے تھے باقی بچے ابھی تک طالبان کی تحویل میں ہیں۔