’ماحولیاتی ڈیٹا پر شک صحیح نہیں‘

ماحولیاتی تبدیلی پر اقوامِ متحدہ کے پینل نے ان دعووں کو رد کر دیا ہے کہ عالمی حدت پر انسانی اثر کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل آئی پی سی سی کا کہنا ہے کہ وہ ان نتائج پر مضبوطی سے قائم ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کا زیادہ استعمال عالمی حدت میں اضافے کی اہم وجہ ہے۔
پینل کی جانب سے یہ بیان ایسٹ اینگلیا یونیورسٹی کے ماحولیاتی تحقیقی یونٹ کے اعدادوشمار کی سچائی پر کھڑے ہونے والے تنازعے کے جواب میں سامنے آیا ہے۔
اس یونٹ کی کچھ ای میلز کے سامنے آنے کے بعد یہ دعوٰی کیا جا رہا تھا کہ ان اعدادوشمار میں ردوبدل کیا گیا ہے۔
گزشتہ ماہ اس یونٹ کے سائنسدانوں اور دنیا بھر میں موجود ان کے ہم عصر سائنسدانوں کے پیغامات کو دیگر دستاویزات کے ہمراہ انٹرنیٹ پر شائع کر دیا گیا تھا۔
کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک ای میل کے مطابق اس یونٹ کے سربراہ پروفیسر فل جونز چاہتے تھے کہ ماحولیاتی سائنس پر اقوامِ متحدہ کے اگلی بڑی جائزہ رپورٹ سے کچھ دستاویزات حذف کر دی جائیں۔ پروفیسر جونز نے ان الزامات کے بعد اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا تھا تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد یہ نہیں تھا۔ اس معاملے کی ایک انکوائری بھی جاری ہے۔

ایک بیان میں آئی پی سی سی کے ورکنگ گروپ ون کے شریک چیئرمینوں پروفیسر تھامس سٹاکر اور پروفیسر چن ڈیہ کا کہنا ہے کہ ’ماحولیاتی نظام میں حدت کا معاملہ بہت واضح اور سادہ ہے۔ اس کی بنیاد دنیا بھر کے کئی غیر جانبدار اداروں کے اعدادوشمار پر ہے جو کہ زمین، فضا، سمندر اور برف سے ڈھکے علاقوں میں آنے والی قابلِ ذکر تبدیلیوں کو ظاہر کرتے ہیں‘۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ان پر بعد ازاں علیحدہ سے شماریاتی طریقوں اور مختلف ماحولیاتی ماڈلوں کی مدد سے کام کیا گیا ہے اور یہ تبدیلیاں قدرتی ماحولیاتی تنوع سے خاصی ہٹ کر ہیں اور ان کی وجہ گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے کو قرار دیا جاتا رہا ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پروفیسر تھامس سٹاکر اور پروفیسر چن ڈیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’یہ ثبوت دنیا بھر کے سینکڑوں سائنسدانوں کے احتیاط اور محنت سے کیےگئے کام کا نتیجہ ہے‘۔
خیال رہے کہ یہ تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا ہے جو پیر سے ڈنمارک میں ماحولیات پر عالمی اجلاس شروع ہونے والا ہے۔
آئی پی سی سی کے نائب چیئرمین پروفیسر ژاں پاسکل وین پرسل کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں کہ یہ معلومات ماحولیاتی اجلاس کے آغاز سے قبل منظرِ عام پر آئی ہیں۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ یہ ایک سازش ہے اور سازشیوں نے روسی ہیکرز کی مدد سے یونیورسٹی کے کمپیوٹرز تک رسائی حاصل کر کے یہ ای میلز چرائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ چوری ایک سکینڈل ہے جس کا مبینہ مقصد مذاکرات کاروں کا سائنس پر قائم اعتماد متزلزل کرنا ہے۔
اسی دوران برطانوی محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ وہ دنیا بھر کے موسمیاتی مراکز سے حاصل کردہ وہ تمام ڈیٹا شائع کرے گا جس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ انسان ہی ماحولیاتی تبدیلیوں کا ذمہ دار ہے۔ آئی پی سی سی کے لیے کیے جانے والے تجزیوں میں بھی محکمۂ موسمیات کے یہی اعدادوشمار استعمال کیے گئے ہیں۔ محکمۂ موسمیات نے ایک سو اٹھاسی ممالک سے اجازت طلب کی ہے کہ گزشتہ ایک سو ساٹھ برس کے دوران ایک ہزار سے زائد موسمیاتی مراکز سے حاصل کردہ یہ ڈیٹا شائع کرنے کی اجازت دی جائے۔
محکمۂ موسمیات میں شعبۂ ماحولیاتی سائنس کے سربراہ جان مچل کے مطابق انسان کی وجہ سے عالمی حدت میں اضافے کے ثبوت ناقابلِ تردید ہیں اور ڈیٹا یہ ثابت کر دے گا۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں گلوبل وارمنگ کے حوالے سے ان اعدادوشمار پر یقین ہے یا نہیں بلکہ یہ مسئلہ بات کے زیادہ شفاف ہونے اور کھل کر سامنے لانے کا ہے‘۔
دریں اثناء برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک میں عالمی ماحولیاتی اجلاس کے آغاز سے قبل مظاہرے ہوئے ہیں۔ ان مظاہروں میں شامل افراد ڈنمارک اجلاس میں ایک قابلِ عمل معاہدہ طے کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔سب سے بڑا مظاہرہ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ہوا جس میں ایک اندازے کے مطابق بیس ہزار افراد نے شرکت کی۔ لندن کے علاوہ برلن، پیرس، ڈبلن اور سٹاک ہوم میں بھی چھوٹے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے۔ برلن میں مظاہرین نے دنیا بھر میں سمندر کی بلند ہوتی سطح کی جانب توجہ مبذول کروانے کے لیے ایک بڑے ایکیوریم میں بیٹھ کر احتجاج کیا۔
ماحولیاتی تبدیلیوں پر عالمی اجلاس سات دسمبر سے ڈنمارک کے دارلحکومت کوپن ہیگن میں شروع ہو رہا ہے اور امریکہ کے صدر براک اوباما اور بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سمیت دنیا بھر کے اہم رہنما اس میں شرکت کریں گے۔






















