وہیل کا دس ہزار کلومیٹر کا سفر

فائل فوٹو، وہیل مچھلی
،تصویر کا کیپشنمچھلیوں میں ویل جسامت کے اعتبار سے بہت بڑی ہوتی ہے

ایک وہیل مچھلی نے دس ہزار کلومیٹر یعنی دنیا کے ایک چوتھائی حصے کا سفر کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

’رائل سوسائٹی بائیولوجی جرنل لیٹرز‘ کے مطابق اب تک حیوانات کی جو نقل وحرکت ریکارڈ کی گئی ہیں ان میں اس وہیل کا سفر سب سے طویل ترین ہے۔

وہیل انڈوں اور بچوں کے لیے جن دوسرے علاقوں کا ہر نئے سیزن میں طویل سفر کرتی ہیں یہ سفر اس سے بھی دوگنی مسافت کا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے اس قسم کے رویے سے پتہ چلتا ہے کہ اس جانور کا مزاج کس قدر لچکدار ہے۔

یہ مادہ وہیل دو جگہوں پر نظر آئی اور اس کے فوٹو بھی لیےگئے۔ پہلی بار برازیل میں میں جو نسل بڑھانے کے لیے اس کا پسندیدہ مقام ہے وہاں دیکھی گئی اور پھر مڈگاسکر کے ساحل پر نظر آئی۔

ان دونوں مقام کے درمیان کم سے کم فاصلہ نو ہزار آٹھ سو کلومیٹر ہے۔

اس منصوبے کے سربراہ امریکی ڈاکٹر پیٹر سٹیوک کا خیال ہے کہ وہیل نے یہ مسافت دو مختلف سفر کر کے طے کی ہوگی۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا’اگر مجھے اندازہ لگانا ہو تو میں کہوں گا کہ اس نے معمول کے مطابق پہلے قطب جنوب کی طرف ( بچوں کی پرورش کے لیے) نقل مکانی کی ہوگی اور پھر وہاں سے مڈگاسکر گئی ہو گي۔ اگر اس کے لیے مجھے راستہ بنانا ہو تو یہ برازیل سے جنوب کی طرف ہوگا پھر وہاں سے بحیرہ ہند کی طرف۔‘

سائنس دانوں نے اس وہیل مچھلی کی شناخت اس کی تصویر سے کی۔ ہر ہمپ بیک وہیل کی دم سے نکلے ہوئے ابھار پر خاص قسم کے نشانات پائے جاتے ہیں۔