تیل کی تلاش سے وہیلز کوخطرہ

انٹرنیشنل وہیلنگ کمیشن ( آئي ڈبلیو سی) کا کہنا ہے کہ مشرقی روس کے سکھالن جزیرے کے آس پاس تیل اور گيس کی دریافت کی سرگرمیاں وہاں کی وہیل مچھلیوں کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
بھوری رنگ کی یہ نایاب وہیلیں موسم گرما میں سکھالن جزیرے کے آس پاس ہی بچوں کو پالتی پوستی اور پھلتی پھولتی ہیں۔
لیکن تیل کے سروے کے لیے چٹانوں یا زمین میں شگاف کے لیے پانی کے اندر جو دھماکے ہوتے ہیں اس کی شدت سے وہیل وہاں سے جانے پر مجبور ہوسکتیں ہیں اور ان کی قوت سماعت بھی ضائع ہو سکتی ہے۔
علاقے میں تیل اور گیس کی دریافت کے لیے کمپنیاں زمین میں شگاف کے لیےگن کا استعمال کرتے وقت ایسے اقدامات کرتی ہیں جس سے اس کا اثر کم ہوجائے لیکن آئی ڈبلیو سی سے منسلک سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں اور مزید اقدامت کرنے کی ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مغربی علاقوں میں پائے جانے والی بھوری وہیلیں اب بہت کم یعنی تقریبا سوا سو ہی بچی ہیں اور ان کے وجود کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ سکھالن جزیرہ کے ساحل کا ایک حصہ ان کے پھلنےاور پھولنے کی معروف جگہ ہے۔
آئی ڈبلیو سی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں تیل اور گيس کی دریافت کے عمل میں ’مناسب نگرانی اور اعتدال پیدا کرنے کی ضرورت ہے‘۔
ماہرین نے کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ علاقے میں ’شگاف سروے یا دوسرے آواز پیدا کرنے والے عوامل سے قبل آزادانہ طور پر کام کرنے والے سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔
گزشتہ برس آئی ڈبلیو سی کی میٹنگ کے بعد بارہ ممالک نے روس کی ماحولیات کی وزارت کو ایک خط لکھ کر تیل اور گيس کی تلاش کے ایک بڑے سروے کو کم سے کم ایک برس کے لئے مؤخر کرنے کی اپیل کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غیر سرکاری تنظیموں کے معائنہ کاروں کا کہنا ہے کہ سروے کرتے ہوئے ہمیشہ ان اصولوں پر عمل نہیں کیا جاتا جن سے وہیلز پر ہونے والے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر زمین میں شگاف کرنے والی گن رات کو چلائی جاتی ہے حالانکہ اس وقت سمندری جہاز انہیں یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ آیا کوئی وہیل ان کے قریب ہے بھی یا نہیں۔
آئی ڈبلیو سی کی اس برس کی میٹنگ میں برطانیہ اور امریکہ کی حکومتوں سمیت کئی ممالک نے اس صورت حال پر تشویش ظاہر کی تھی اور اس بارے میں روس سے سخت اقدامات کرنے کو کہا ہے۔
بیلجیم کے نمائندے الیگزنڈر لیشٹیورڈے کا کہنا تھا کہ اس جگہ پر کسی بھی طرح کے انفراسٹکچر کی توسیع ابھی قبل از وقت ہوگي۔
ان کا کہنا تھا '' ہمیں اس بات پر تشویش ہے کہ ایک کمپنی ( سکھالن انرجی) نے ساحل کے پاس ہی نئے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ سب ہورہا ہے لیکن دو ہزار دس کے اثرات کا پوری طرح جائزہ بھی نہیں لیا گيا ہے۔''







