مشتبہ دہشتگرد اب ’دشمن جنگجو‘ نہیں

گوانتانامو
،تصویر کا کیپشناس وقت بھی قریباً ڈھائی سو افراد گوانتانامو میں قید ہیں

امریکی محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ اب امریکہ دہشتگردی کے شبہ میں پکڑے جانے والے افراد کو ’دشمن جنگجو‘ قرار نہیں دے گا جبکہ زیرِ حراست افراد کو جنگ کے بین الاقوامی قوانین کے تحت حراست میں رکھا جائے گا۔

امریکی حکام کی جانب سے یہ اعلان اس حوالے سے بش انتظامیہ کی پالیسی کا خاتمہ قرار دیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ سابق امریکی صدر جارج بش اپنے دورِ اقتدار میں یہ کہتے رہے کہ بطور کمانڈر انچیف انہیں ’دشمن جنگجوؤں‘ کو غیر معینہ مدت تک بغیر مقدمہ چلائے زیرِ حراست رکھنے کی اجازت حاصل ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئی تعریف کے تحت صرف ان افراد کو گرفتار کیا جائے گا جو القاعدہ یا طالبان کو ٹھوس مدد فراہم کرتے ہیں۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل کے مطابق’دشمن جنگجو‘ کی اصطلاح کا خاتمہ ایک اہم قدم ہے کیونکہ اس اصطلاح کا استعمال کرتے ہوئے بش انتظامیہ قیدیوں کو جنگی قیدی قرار دینے سے بچتی رہی تھی اور اسی لیے ان قیدیوں پر جنیوا کنونشن جیسے عالمی قوانین کا اطلاق بھی نہیں ہوتا تھا۔

تاہم اس کے برعکس اوباما انتظامیہ مشتبہ افراد کو کانگریس کی جانب سے سنہ 2001 میں امریکی حکومت کو دی جانے والی اجازت کے تحت زیرِ حراست رکھے گی۔ امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق امریکی حکومت کا یہ اقدام بین الاقوامی جنگی قوانین سے مطابقت رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ نئے امریکی صدر براک اوباما ایک برس کے عرصے میں گوانتانامو کا قیدخانہ بند کرنے کے احکامات پہلے ہی جاری کر چکے ہیں تاہم اس وقت بھی قریباً ڈھائی سو افراد گوانتانامو میں قید ہیں اور اوباما انتظامیہ ان پر عائد الزامات کا فرداً فرداً جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جائے کہ کن افراد پر مقدمہ چلایا جانا ہے۔