بغداد میں تین کار بم حملے، 41 ہلاک

عراق
،تصویر کا کیپشنگزشتہ جمعرات اور جمعہ کے روز چار خود کش بم حملوں میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوئے

پولیس کے مطابق بغداد کے شیعہ اکثریت والے علاقے صدر سٹی میں ہونے والے تین کار بم حملوں میں کم از کم 41 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی ہسپتالوں کے مطابق کار بم حملوں میں ستر سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔ دھماکے صدر سٹی کے غریب علاقوں کے مصروف بازاروں میں ہوئے۔

گزشتہ ہفتے کے دو دنوں کے درمیان ہونے والے خود کش بم حملوں میں ایک سو پچاس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تشدد کے حالیہ واقعات سے یہ تشویش دوبارہ سر اٹھانے لگی ہے کہ عراق فرقہ واریت کے دور کی طرف واپس جا سکتا ہے۔

عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ بم صدر سٹی میں واقع تین مارکیٹوں میں یکے بعد دیگرے ہوئے۔

عراقی سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جو ایک طویل عرصے تک سخت موقف رکھنے والے شیعہ رہنماء مقتدہ الصدر کا گڑھ رہا ہے۔

یہ کار بم حملے تشدد کی بڑھتے ہوئے اس لہر کا حصہ ہیں جس میں مصروف شیعہ علاقوں اور شیعہ مسلمانوں کے متبرک مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے جمعرات اور جمعہ کے روز چار خود کش بم حملوں میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں وہ ساٹھ افراد بھی شامل تھے جو بغداد کے سب سے مرکزی مزار پر حملے میں ہلاک ہوئے۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور نے مطابق یہ کار بم حملے ان اشتعال انگیز کارروائیوں کا حصہ ہیں جن کا الزام ان سُنی شدت پسندوں پر لگایا جاتا ہے جو سن دو ہزار چھ اور سات میں ہونے والی فرقہ وارانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔

ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ علاقے کے رہائشیوں نے وہاں تعینات عراقی فوجی یونٹوں پر پتھراؤ کیا اور ان پر الزام لگایا کہ وہ بم حملوں کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہے۔