عراق میں کار بم دھماکہ بتیس ہلاک

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنعراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا میں کچھ ہی ہفتے رہ گئے ہیں

جنوبی عراق کے شہر الناصریہ کے قریبی قصبے بعثہ میں کار بم کا زبردست دھماکہ ہوا ہے جس میں کم از کم بتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

صبح کے وقت ایک مصروف بازار میں ہونے والے اس دھماکے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ماضی میں یہ شہر شیعہ آبادی اور شیعہ ملیشیاؤں کے درمیان جھڑپوں کا مرکز رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ ایک کار میں ہوا جسے کوئی پارک کر کے چلا گیا تھا۔

یہ دھماکہ اس وقت ہوا ہے جب کچھ ہی ہفتوں بعد امریکی افواج عراق سے رخصت ہونے والی ہیں اور عراقی شہروں میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک عراقی ویب سائٹ پر یہ بیان جاری کیا گیا ہے کہ دھماکے کے مقام سے تیس لاشیں اٹھائی گئی ہیں اور ستر افراد زخمی ہوئے ہیں۔

بعثہ کے مئر علی فہد کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں تیس کلو میٹر دور واقع ناصریہ کے ہسپتال لے جائی گئی ہیں۔

عراق میں مجموعی طور پر دھماکوں کے واقعات میں کمی آئی ہے تاہم جنوب میں ان واقعات کے بارے میں خدشات کم نہیں ہوئے۔

بغداد سے بی بی سی کے نکولس وٹچل کا کہنا ہے کہ بعثہ کیوں کہ شیعہ علاقہ ہے اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ دھماکے کے پیچھے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے سُنی شورش پسند ہو سکتے ہیں۔