سی آئی اے کو ڈک چینی کا حکم

امریکہ کے سابق ِنائب صدر ڈک چینی نے خفیہ ادارے سی آئی اے کو براہ راست حکم دیا تھا کہ ایک خفیہ منصوبے کو کانگریس سے پوشیدہ رکھا جائے۔
امریکی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق خفیہ پروگرام گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد شروع کیا گیا تھا اور اسے آٹھ سال تک خفیہ رکھا گیا۔ تاحال اس منصوبے کی نوعیت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے۔
سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا نےگزشتہ ماہ اس منصوبے کے بارے میں معلوم ہونے پر اس کو ختم کر دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق اب سی آئی اے کے سربراہ نے ہاؤس کمیٹی کو بتایا ہے کہ خفیہ منصوبے کو ڈک چینی کے کہنے پر پوشیدہ رکھا گیا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب کانگریس اور سی آئی اے کے درمیان اس بات پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ایجنسیوں نے اپنے آپریشن کے لیے اہم معلومات کو خفیہ رکھا ہو۔
امریکہ کے ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے دعویٰ کیا تھا کہ سی آئی اے نے انہیں تفتیش کے طریقہ کار جیسے واٹر بورڈنگ کے بارے میں گمراہ کیا جبکہ ڈیمو کریٹس کے سینیئر اراکین کے مطابق سی آئی اے کے سربراہ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ان کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے ایجنسی کانگریس کو گمراہ کر چکی ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ خفیہ پروگرام گیارہ ستمبر کے واقعے کے فوری بعد شروع کیا گیا تھا اور اس کا مقصد منصوبہ بندی اور تربیت تھی تاہم یہ منصوبہ پوری طرح شروع نہیں کیا جا سکا تھا۔
ذرائع نےامریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ سابق نائب صدر نے خود اس بات پر اصرار کیا ہے کہ منصوبے کو کانگریس سے خفیہ رکھا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی آئی اے کے سربراہ نے موجودہ امریکی صدر براک اوباما کے دور حکومت میں سی آئی اے کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا ہے اور انہیں خود گزشتہ ماہ ہی اس خفیہ منصوبے کے بارے میں پتہ چلا تھا۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے اس کے اگلے ہی روز کانگریس کی کمیٹی برائے خفیہ امور کی مینٹگ طلب کی اور انہیں اس منصوبے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کو بند کر دیا گیا ہے۔
یہ الزامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب کانگریس میں ڈیمو کریٹس اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ نئے قوانین لائے جائیں جن کے تحت کانگریس کے زیادہ سے زیادہ اراکین کو خفیہ آپریشنز کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکیں۔
وائٹ ہاؤس نے ِبل کو ویٹو کرنے کی دھمکی دی ہے کیونکہ ایسا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایسا کرنے سے خفیہ کارروائیوں پر سمجھوتہ ہوگا۔







