افغان لڑائی: حمایت میں ’اضافہ‘

برطانیہ میں ایک جائزے سے اندازہ ہوتا ہے کہ افغانستان میں فوجی کارروائی کے حق اور مخالفت میں تقریباً ایک ہی جتنے لوگ ہیں، لیکن اس کی حامیوں کی تعداد تین سال پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ ہے۔
برطانیہ میں حالیہ دس دنوں میں پندرہ برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اس کی افغانستان کے بارے میں حکمت عملی تنقید کا نشانہ بنی تھی، لیکن ایک ہزار لوگوں سے سوالات کے بعد جو رجحاں سامنے آیا ہے اس کے مطابق اس کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ چھیالیس فیصد لوگ اس مشن کے حق میں ہیں اور سینتالیس فیصد خلاف۔
سن دو ہزار چھ میں بھی اسی طرح کا ایک تجزیہ کیا گیا تھا اور اس وقت اکتیس فیصد لوگ افغانستان میں فوجی کارروائی کے حق میں تھے جبکہ ترپن فیصد نے مخالفت کی تھی۔
آئی سی ایم رسرچ نامی کمپنی نے تازہ ترین تجزیہ بی بی سی نیوز نائٹ اور روزنامہ گارڈین کے لیے جمعہ اورسنیچر کے دوران کیا۔ تجزیے کے مطابق جنگ کے حق میں مردوں کی شرح چالیس فیصد سے بڑھ کر انچاس فیصد تک گئی ہے جبکہ خواتین کی شرح بائیس فیصد سے بڑھ کر تینتالیس فیصد تک۔
اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی سامنےآئی کہ بیالیس فیصد لوگوں کے خیال میں فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلا لینا چاہیے جبکہ چھتیس فیصد کا خیال تھا کہ انہیں جب تک ضروری ہے وہاں رہنا چاہیے۔
افغانستان میں سن دو ہزار ایک کے بعد سے اب تک ایک سو چراسی برطانوی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ عراق میں یہ تعداد ایک سو اناسی ہے۔ افغانستان میں اگست میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ افغانستان میں مشن کامیابی کی طرف بڑھ رہا ہے اور انہوں نے برطانوی فوجیوں کی تعریف کی۔
















