امریکی فوج دوبارہ عراقی شہروں میں

امریکی فوج
،تصویر کا کیپشن معاہدے کے تحت امریکی افواج کو اکتیس دسمبر 2011 سے پہلے عراق سے نکل جانا ہے

سرکاری طور پر عراق کے شہروں سے امریکی فوج کی واپسی کے بعد ایک بار پھر فوج خاموشی سےشہروں اور قصبوں میں امن و امان کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے واپس آ گئی ہے۔

امریکی فوج کے انخلاء کے بعد عراق کے شہروں میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے کی بجائے خراب ہوئی ہے اور وہاں روزانہ کی بنیاد پر تشدد کے واقعات رونماء ہو رہے ہیں۔

امریکی فوج کے مطابق عراق کا شہر موصل اور اس مضافات کے علاقے سب سے زیادہ خطرناک تصور کیے جاتے ہیں۔ جہاں روزانہ دھماکوں ، فائرنگ اور خودکش بم دھماکوں سمیت چار حملے ہوتے ہیں۔ یہاں رواں سال جنوری میں ایسے واقعات کی تعداد چھ تھی۔

عراق اور امریکہ کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے مطابق رواں سال تیس جون سے عراق کے شہری علاقوں میں امن و امان کی مکمل ذمہ دار عراقی سکیورٹی فورس ہے۔ لیکن امریکی فوج سکیورٹی کی صورتحال پر نظر رکھنا چاہتی ہے ۔ اس لیے موصل جیسے شہر میں عراقی فوج کے ساتھ مل کر مختصر تعداد میں گشت شروع کیا گیا ہے۔

امریکی فوج کے لیفٹینٹ جوئل براؤن سکیورٹی کے انتظامات عراقی فوج کے حوالے کرنے کے بعد پہلی بار واپس موصل آئے ہیں جہاں گشت کے دوران ان کے قافلے پر گرینیڈ سے حملہ کیا گیا تھا۔

عراق میں امریکی فوجی کے داخل ہونے کے چھ سال کے بعد بھی عراقی شہر موصل میدان جنگ کا نقشہ پیش کرتا ہے ۔

معاہدے کے مطابق شہر میں تین امریکی فوجی گاڑیاں داخل ہو سکتی ہیں اور عراقی سکیورٹی فورس کی دو گاڑیاں امریکی فوج کے ساتھ ہوتی ہیں۔موصل میں عراقی سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی تعداد تعینات ہیں اور شہر میں جگہ جگہ چیک پوسٹیں ، نظر رکھنے کے ٹاورز کے علاوہ پہلے سے زیادہ تعداد میں بکتر بند گاڑیاں گشت کرتی ہیں۔

امریکی فوج کے لیفٹینٹ براؤن نے بتایا کہ ابھی تک عراق میں ایک لاکھ تیس ہزار کے قریب فوجی تعینات ہیں جن میں سے زیادہ تر کوڑا چننے والے لگتے ہیں۔

موصل میں امریکی فوج کے حالیہ گشت کی وجہ سے مقامی شہری انہیں دوستانہ نظر سے نہیں دیکھتے ہیں کیونکہ فوج کے انخلاء کے بعد انہیں امریکی فوجیوں کو دیکھنے کی عادت نہیں رہی ہے۔

عراقی شہروں سے انخلاء کے معاہدے کے بعد تعمیر نو کے منصوبوں پر نظر رکھنے کے لیے امریکی فوج کے شہروں میں دوبارہ سے داخل ہونے کا موقع ملا ہے ۔ لیکن معاہدے کے بعد اب فوجیوں کو شہروں میں آنے کے نئے قوانین کی پاسداری کرنا پڑتی ہے ۔جن میں ایک وقت میں صرف تین امریکی فوجی گاڑیوں کی شہر میں آمد اور ان کے ساتھ دو عراقی سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کا ہونا لازمی ہے۔

دوسری جانب موصل سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع دیہات اور قصبوں میں صورتحال مختلف نظر آتی ہے جہاں امریکی فوجی آزادی کے ساتھ نقل و حرکت کر سکتے ہیں لیکن گشت پر جاتے وقت ان کے ساتھ عراقی سکیورٹی فورس کی گاڑیاں ہوتی ہیں۔

امریکہ نے افغنستان کے مسئلے کو اہمیت دینا شروع کردی ہے لیکن اس کے ساتھ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ عراق میں سکیورٹی کی بہتر صورتحال اس وقت تک برقرار رہے جب تک وہاں سے فوج کا مکمل انخلاء نہیں ہو جاتا ہے۔