’عراق میں امریکی کردار پر غور ممکن‘

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نےعندیہ دیا ہے کہ عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کے لیے مقررہ مدت کے بعد بھی عراق میں ’امریکی کردار‘ پر بات چیت ممکن ہے۔
عراقی وزیر اعظم نے واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک سے خطاب کے دوران کہا کہ اگر عراقی افواج کو مزید تربیت اور مدد کی ضرورت ہوگی تو پھر عراق میں امریکی کردار کے بارے میں بات ہو سکتی ہے۔ عراقی وزیر اعظم چار روزہ دورے پر امریکہ میں ہیں۔
<span xml:lang="er">عراق اور امریکہ کے درمیان کا ایک معاہدے کے تحت امریکی افواج کو اکتیس دسمبر 2011 سے پہلے عراق سے نکل جانا ہے۔ <span/>جون میں عراقی شہروں سے امریکہ فوجوں کے انخلاء کو ایک اہم قدم قرار دیا گیا اور پورے <link type="page"><caption> عراق میں لوگوں نے اس پر خوشیاں منائی تھیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/06/090628_iraqi_celebrate_ra.shtml" platform="highweb"/></link>۔ البتہ امریکہ کے ایک لاکھ تیس ہزار فوجی اب بھی عراق کی سرزمین پر موجود ہیں۔ </span>
امریکی افواج پچھلےماہ عراقی شہروں سے نکل چکی ہیں اور عراق میں امن عامہ کی صورتحال پر قابو پاناعراق کے سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری ہے۔
<span xml:lang="er"> عراقی رہنما نے بدھ کے روز امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کی تھی۔ صدر اوباما نے اس موقع پر کہا تھا کہ امریکہ دسمبر 2011 میں عراق سے فوجوں کےمکمل <link type="page"><caption> انخلاء کے وعدے پر قائم</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/07/090722_obama_maliki.shtml" platform="highweb"/></link> رہے گا۔ عراق میں حالیہ دنوں میں امن و عامہ کی صورتحال قدرے خراب ہوئی ہے۔</span>
عراقی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ عراقی افواج اب بہت باصلاحیت ہیں اور وہ کامیابی کے ساتھ امن عامہ کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
عراق میں جنوری دو ہزار دس میں انتخابات ہونےوالے ہیں اور موجودہ وزیر اعظم نوری المالکی اپنے آپ کو ایک ایسا رہنما کے روپ میں سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں جس نےحملہ آور افواج کو ملک سے نکال دیا۔


















