’القاعدہ کے حامی تو نہیں؟‘

mi5
،تصویر کا کیپشن’جلد بازی کے نتیجے میں القاعدہ سے ہمدردی رکھنے والے عناصر بھی خفیہ ایجنسی میں شامل ہوچکے ہیں‘

برطانیہ میں ٹوری پارٹی کے سینئر رکن پارلیمان نے وزیر داخلہ سے سوال کیا ہے کہ آیا MI5 نے غلطی سے القاعدہ سے ہمدردی رکھنے والوں کو تو ادارے میں بھرتی نہیں کرلیا۔

دہشتگردی سے نمٹنے کی ایک ذیلی کمیٹی کے سربراہ پیٹرک مرسر کا کہنا ہے کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ایم آئی فائیو میں بھرتی کیے گئے چھ اہلکاروں کو برخاست کردیا گیا ہے۔ یہ اقدام ان چھ افراد کے ماضی کے بارے میں پائی جانے والی تشویش کی بنیاد پر اٹھایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دو افراد مبینہ طور پر ماضی میں القاعدہ تربیتی کیمپوں میں شرکت کرچکے ہیں جبکہ دیگر چار افراد کے ماضی کے بارے میں بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے ان دعوؤں کے بارے میں کوئی بھی بیان دینے سے گریز کیا۔

پیٹرک مرسر کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق ان چھ افراد کو 2005 سے 2007 کے دوران برخاست کیا گیا۔

رکن پارلیمان کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ 2005 میں لندن کی ٹرانسپورٹ پر بم حملوں کے واقعات کے بعد سکیورٹی کے اداروں نے مسلمان افراد کو بھرتی کرنے میں جلد بازی سے کام لیا ہے جس کے نتیجے میں القاعدہ سے ہمدردی رکھنے والے عناصر بھی خفیہ ایجنسی میں شامل ہوچکے ہیں۔

انہوں نے وزیر داخلہ ایلن جانسٹن سے بھی ایک تحریر کے ذریعے مزید معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ دارالعوام کی داخلی امور کی کمیٹی اگلے ماہ اس معاملے کے بارے میں تحقیقات کرے گی۔

پیٹرک مرسر نے دی ٹیلی گراف کو بتایا کہ نیویارک میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے حکومت کو سکیورٹی سروسز میں تیزی سے توسیع کرنی چاہیے تھی۔ ’تاہم ایسے اقدامات برطانیہ پر حملہ کیے جانے کے بعد اٹھائے گئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کی جلدبازی سے ہمارے دشمنوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔‘