افغان بم دھماکے میں بارہ ہلاک

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں صدارتی انتخاب سے پہلے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

پولیس کے مطابق مغربی افعانستان کے صوبے ہرات کے شہر میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں پولیس اہلکار اور شہری شامل ہیں۔

پولیس کے حکام کے مطابق سوموار کے روز ہونے والے بم دھماکے کا ہدف پولیس کا ایک قافلہ تھا۔

افغانستان میں رواں ماہ بیس اگست کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے شدت پسندوں نے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔حملوں میں اضافہ افعانستان کے جنوبی اور مغربی علاقے میں ہوا ہے جہاں طالبان مضبوط ہیں۔

پولیس کے ترجمان رؤف احمدی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا ہے کہ بم دھماکہ ریموٹ کنڑول کے ذریعے کیا گیا ہے۔

ایک اور پولیس آفسر عصمت اللہ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ سڑک کے کنارے کوڑے کے ڈبے میں رکھا ہوا بم اس وقت پھٹا جب وہاں سے پولیس کا قافلہ گزر رہا تھا۔انہوں نے بتایا کہ بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس آفسر، ایک خاتون اور ایک بچہ شامل ہے جبکہ ضلعی پولیس آفسر شدید زخمی ہوئے ہیں۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بم دھماکے کا نشانہ صوبہ ہرات کے گورنر ہو سکتے ہیں جو خیال کیا جا رہا ہے کہ قافلے کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے نامہ نگار کے مطابق دھماکے میں بہت ساری پولیس کی گاڑیوں اور ٹیکسیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

خیال رہے کہ افغان صوبہ ہرات امن و امان کے حوالے سے قدرے پر سکون تصور کیا جاتا ہے جس کی سرحد ایران سے ملتی ہے۔

گذشتہ ہفتے افغانستان میں تعینات بین الاقوامی اتحادی افواج پر ہونے والے متعدد حملوں میں نو فوجی ہلاک ہو گئے تھے جو دو ہزار ایک کے بعد غیر ملکی فوج کا سب سے بڑا جانی نقصان تھا۔