ایران پر حملہ، پوتن کی وارننگ

ایران کا جوہری پروگرام
،تصویر کا کیپشنایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے

روس کے وزیرِ اعظم ولادمیر پوتن نے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے اس پر کسی فوجی حملے یا نئی اقتصادی پابندیاں لگانے کے متعلق خبردار کیا ہے۔

روس کے دارالحکومت ماسکو میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران پر ’کوئی بھی حملہ، بہت خطرناک اور ناقابلِ قبول ہو گا اور اس سے دہشت گردی پھوٹ پڑے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مجھے بہت شک ہے کہ اس قسم کے حملے سے مطلوبہ نتائج نکلیں گے۔‘

وزیرِ اعظم پوتن نے ایران سے بھی کہا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے متعلق ذرا تحمل کا مظاہرہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک پرخطر علاقہ ہے اور ایران کو چاہیئے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، خصوصاً اسرائیل کی تشویش کو مدِ نظر رکھتے ہوئے۔‘

اس سے قبل روس نے ایران کی طرف سے پیش کردہ تازہ تجاویز پر مثبت رد عمل کا اظہار کیا تھا۔ روس کے وزیرخارجہ سرگی لاوروف نے کہا کہ ’ان میں سے کچھ تجاویز ایسی ہیں جن پر کام ہو سکتا ہے‘۔

ولادمیر پوتن
،تصویر کا کیپشنایران پر حملہ ناقابلِ قبول ہو گا: پوتن

لاوروف نے کہا کہ ایران کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کے ایک سرسری جائزے کی بنیاد پر وہ کہہ سکتے ہیں کہ ان میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جن پر کام ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان میں ایک اہم چیز یہ ہے کہ ایران ایک جامع مذاکرات کے لیے تیار ہے کہ وہ افغانستان اور عراق میں کیسے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کے تیل کی درآمدات پر کوئی پابندی لگانے کی حمایت کرے گی۔

ماسکو میں بی بی سی کے نمائندے بریجٹ کینڈل کا کہنا ہے کہ روسی وزیر خارجہ کے بیان سے ظاہر ہو گیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں مغربی ممالک اور روس کے خیالات مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پر کوئی مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا مشکل ثابت ہوگا۔

دوسری طرف امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران نے جوہری پروگرام کے تنازعے کو حل کرنے کے لیے جو تجاویز پیش کی ہیں وہ اطمینان بخش نہیں ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کے فلپ کراولی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران کی طرف سے پیش کردہ تجاویز اس کے جوہری پروگرام کے مسئلہ کو حل نہیں کرتیں۔

امریکہ چاہتا ہے کہ ایران یورینیم کی افزوگی بند کر دے جو اس کے بقول ایران جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کرے گا جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔