اوباما کی نئی افغان پالیسی میں نیا کیا؟

- مصنف, مسعود عالم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
امریکی صدر براک اوبامہ نے مہینوں کے صلاح مشورے کے بعد بالآخر نئی افغان پالیسی کا اعلان کر دیا ہے، جس میں تیس ہزار مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنے، تین سال کے اندر اپنے اہداف حاصل کر کے بیشتر امریکی فوج کو واپس لانے، اور افغان سکیورٹی اداروں کی تربیت کا دائرہ اور رفتار بڑھانے کے فیصلے کیے گئے ہیں۔
افغانستان میں مزید امریکی فوجی بھیجنے کے فیصلے نہ تو کسی کو حیران نہیں کیا، لیکن فوجیوں کی تعداد اور ان کی تعیناتی کی مجوزہ رفتار پر ضرور سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سٹینلی مک کرسٹل نے اپنی حکومت سے چالیس ہزار مزید فوجی بھیجنے کی درخواست کی تھی اور نئے دستوں کی تعیناتی کے لیے ایک سال کا وقت دیا تھا۔
صدر اوبامہ کی نئی پالیسی میں فوجیوں کی تعداد کم کی گئی ہے لیکن ان کی افغانستان میں تعیناتی ایک سال کی بجائے چھ ماہ میں مکمل کی جائے گی جو پینٹاگان ذرائع کے مطابق فوجی کمان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ صدر اوبامہ کے ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیٹو اتحادیوں پر بھی مزید فوجی بھیجنے کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے اور ان کی حصہ داری سے افغانستان میں بین الاقوامی فوج کی مطلوبہ تعداد حاصل ہو جائے گی۔
ان منصوبوں کے مطابق اگلے موسم گرما کے آغاز پر افغانستان میں ایک لاکھ امریکی اور اور پینتالیس ہزار نیٹو فوجی موجود ہوں گے۔ نئی پالیسی کے مطابق فوج کی یہ تعداد افغان جنگ کے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے لیے کافی ہو گی اور سن دو ہزار بارہ میں امریکہ اپنی فوج کا انخلاء شروع کر سکے گا۔ یہ نکتہ امریکہ کی اندرونی سیاست میں اہمیت کا حامل ہے کیونکہ صدر اوبامہ کی اپنی ڈیموکریٹک پارٹی فوج کی جلد واپسی چاہتی ہے جبکہ اپوزیشن ریپبلکن پارٹی ایک لمبی جنگ کے حق میں ہے اور انخلاء کی بات کرنے کو امریکہ کی کمزوری سے تعبیر کرتی ہے۔ فوج کی تعداد بڑھا کر اور واپسی کا ٹائم ٹیبل دے کر ایک درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی گئی ہے۔
نئی پالیسی کا ایک اہم جزو ’اچھے طالبان‘ کے ساتھ بات چیت بھی ہے۔ نیوز رپورٹس کے مطابق یہ عمل کافی عرصے سے جاری ہے اور اس میں پاکستان، سعودی عرب اور چند یوروپی ممالک کی سفارتی کوششیں شامل ہیں۔ لیکن امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے میں پہلی بار کھل کر بات کی گئی ہے:
’ہم افغان حکومت کے ان اقدامات کی حمایت کرتے ہیں جو وہ ایسے طالبان کو قریب لانے کے لیے کر رہی ہے جو تشدد کا راستہ چھوڑ کر انسانی حقوق کی پاسداری کرنے کو تیار ہیں۔ افغانستان کے ساتھ مل کر ہم ایسے عناصر کو تنہا کرنا چاہتے ہیں جو تباہی پھیلاتے ہیں، ایسے عناصر کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں جو تعمیر و ترقی کے خواہاں ہیں اور اس دن کو جلد طلوع ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں جب امریکی فوج یہاں سے رخصت ہو‘، صدر اوبامہ نے اپنی تقریر میں کہا۔
اس سارے قضیے میں پاکستان بالواسطہ اور بلا واسطہ متاثر ہوتا ہے۔ صدر اوبامہ نے اپنی پالیسی تقریر میں پاکستان کو افغان مسئلے کے حل میں ایک کلیدی کردار کے طور پر پیش کیا اور اس کے لوگوں کو دہشتگردی کے شکار کے طور پر، اور وعدہ کیا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی امریکہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے گا:
’ماضی میں پاکستان کی جانب امریکہ کی پالیسی عموماً تنگ نظری پر مبنی رہی ہے۔ وہ دن گزر گئے۔ اب پاکستان کے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ افغانستان میں لڑائی ختم ہونے کے بہت عرصہ بعد بھی امریکہ پاکستان کی سکیورٹی اور خوشحالی کے لیے کوشاں رہے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن پھر بھی پاکستان اور امریکہ کے درمیان شکوک و شبہات کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان نے پہلے تو امریکہ کی جانب سے افغانستان اور پاکستان کو جوڑ کر ’افپاک پالیسی‘ بنانے کی عمل پر اعتراض کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے حالات بہت مختلف ہیں۔ پھر جب یہ دکھائی دینے لگا کہ امریکہ مزید فوج افغانستان بھیجنے کو ہے تو اسلام آباد نے کہنا شروع کیا کہ افغانستان میں دباؤ بڑھانے سے طالبان سرحد پار کر کے پاکستان آ جائیں گے، لہذٰا نئی تعیناتیاں پاکستان سے ملحق افغان علاقوں میں نہ کی جائیں۔ اور چند روز پہلے پاکستانی وزیر اعظم نے فرمائش کر دی کہ افغانستان کے لیے جو بھی پالیسی بنے اس میں پاکستان کی مشاورت شامل ہونی چاہیے۔
دوسری جانب امریکہ نے پاکستانی حکومت اور فوج پر دہشتگردی مخالف جنگ میں ’ناکافی‘ کارکردگی کے حوالے سے دباؤ ڈالے رکھا جب تک فوج نے سوات میں فوجی آپریشن نہیں شروع کیا۔ اب سوات میں کامیابی کے بعد جنوبی وزیرستان میں جاری لڑائی سے امریکہ کی شکایات میں کافی کمی ہوئی ہے۔ اس کے شواہد تو نہیں ملے کہ پاکستانی حکومت سے نئی پالیسی پر مشاورت کی گئی ہو لیکن اتنا ضرور ہوا کے اس کے اعلان سے پہلے صدر اوبامہ نے جن عالمی رہنماؤں کو اعتماد میں لیا ان میں صدر آصف زرداری بھی شامل تھے۔
اور نئی تعیناتیوں پر پاکستانی تشویش کو تجزیہ کار صرف ایک سیاسی حربہ بتاتے ہیں۔ ریٹائرڈ لیفٹینینٹ جنرل اسد درانی کہتے ہیں پاکستان کی حکمت عملی درست ہے لیکن اس کا مقصد امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونا نہیں بلکہ اندرونی سیاست میں نمبر بنانا ہے:
’یہ تو نہیں ہو سکتا کہ امریکہ ان فوجیوں کو وہاں تعینات کرے جہاں امن ہے۔ ظاہر ہے انہیں پاکستان سے ملحق علاقوں میں ہی جانا ہے۔ تو پاکستان وہ کہہ رہا ہے جو اسے کہنا چاہیے اور امریکہ وہ کر رہا ہے جو اسے کرنا چاہیے۔‘
پاکستان میں سابق فوجیوں، سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں نے اسلام آباد کے حوالے سے عمومی طور پر اس پالیسی کی حمایت کی ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین تو اس افغان پالیسی میں پاکستان کے لیے امریکہ کی حکمت عملی کو بھی بدلتا ہوا دیکھتے ہیں:
’امریکہ کا رویہ بدل گیا ہے۔ امریکی سٹریٹیجی کا محور پاکستان ہے جو پہلے نہیں تھا۔ ابھی کوئی دھمکی نہیں دی گئی، ”ڈو مور” نہیں کہا گیا۔ تو بنیادی طور پر یہ ایک مثبت پیغام ہے پاکستان کے لیے۔‘





















