بگرام کے قیدیوں کے نام جاری

بگرام قید خانہ
،تصویر کا کیپشناس قید خانہ میں سینکڑوں قیدی برسوں سے قید ہیں جن کے متعلق معلومات کم ہی ہیں

امریکی حکام نے افغانستان کی بگرام جیل میں بند چھ سو پینتالیس قیدیوں کے ناموں کی فہرست جاری کر دی ہے۔

یہ فہرست عدالت میں اس درخواست کے جواب میں جاری کی گئی ہے جس میں خبروں کے مخفی رکھنے کو چیلنج کیا گيا تھا۔

<link type="page"><caption> قیدیوں کی فہرست دیکھنے کے لیے کلک کریں</caption><url href="http://www.aclu.org/files/assets/bagramdetainees.pdf" platform="highweb"/></link>

عدالت میں یہ درخواست ’امریکن سول لبرٹیز یونین‘ نے داخل کی تھی اور کہا تھا کہ حکام قیدیوں کی تفصیل اور ان کے ساتھ جاری سلوک کے بارے میں معلومات دیں۔

امریکی حکام نے اس سے پہلے بگرام قید خانے کی تفصیلات جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔

لیکن اے سی ایل یو کا کہنا ہے کہ اس لسٹ میں قید خانے کی اہم تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ تنظیم کی وکیل ملیزا گوڈ مین کا کہنا ہے کہ خفیہ بگرام قید خانہ کے قیدیوں کے نام کی فہرست کی اشاعت ’شفافیت اور جوابدہی کی نوعیت سے ایک اہم قدم ہے‘۔

تاہم ملیزا نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ اس سمت صرف پہلا قدم ہے۔ ’پوری طرح جوابدہی تبھی ہو سکے گی جب یہ بھی تفصیل سامنے آئے کہ وہ قیدی کتنے دنوں سے قید ہیں، ان کا تعلق کہاں سے ہے، کیا ان میں سے کچھ کو میدان جنگ کے علاہ کسی دوسری جگہ بھی پکڑا گیا تھا اور کیا وہ افغانستان کے علاوہ کسی دوسرے ملک کے بھی ہیں‘۔

خبر رساں ادارہ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جمعہ کو ایک جو دوسرا بیان جاری کیا گیا ہے اس میں سولہ برس تک کی کم عمر کے قیدیوں کی تعداد ’بہت کم‘ بتائی گئی ہے۔ یہ فہرست ستمبر دو ہزار نو کے مطابق تیار کی گئی ہے جس وقت یہ عدضداشت عدالت میں داخل کی گئی تھی۔ اس میں چھ سو پینتالیس قیدیوں کے نام شامل ہیں۔

نیویارک یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر رمزی قاسم نے اس تفصیل کے سامنے آنے کو بینظیر قرار دیا ہے۔’ہمیں اس فہرست تک کبھی رسائی حاصل نہیں تھی اور یہ ایک بینظیر کام ہے‘۔ رمزی ایک یمنی شہری کے وکیل ہیں جسے تھائی لینڈ میں گرفتار کر کے بگرام کی جیل میں قید کردیا گیا تھا۔

واشنگٹن کے ایک وفاقی جج نے ایک فیصلہ میں کہا تھا کہ بگرام کے وہ قیدی جنہیں افغانستان سے باہرگرفتار کیا گیا ہو وہ امریکی عدالتوں میں مقدمات دائر کر سکتے ہیں۔ براک اوباما انتظامیہ اس فیصلہ کے خلاف اپیل کر رہی ہے۔

کابل کے شمال میں واقع بگرام کے ہوائی اڈے کو امریکہ اور اس کے اتحادی دو ہزار ایک میں طالبان حکومت کے خاتمہ کے بعد سے ہی استعمال کر رہے ہیں۔

بگرام کے بہت سے قیدیوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس قید خانے میں غیر انسانی سلوک کے الزامات بھی عائد کیے تھے جبکہ امریکہ ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔