’افغانستان سے انخلاء آئندہ برس تک ممکن‘

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کمرون نے کہا ہے کہ افغانستان سے برطانوی فوج کا انخلاء سنہ 2011 تک شروع ہوسکتا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے افغانستان سے سنہ 2011 سےامریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا عمل شروع کے بارے میں کہا ہوا ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ برطانوی فوجیوں کے بارے میں یہی امید کی جاسکتی ہے لیکن یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ’وہاں زمینی حقائق کیا ہیں‘۔
لیکن برطانیہ کے سابق فوجی جنرل سر مائیک جیکسن نے کہا ہے کہ وہ اس طرح سے تاریخیں طے کرنے پر فکر مند ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں فوجی طاقتوں میں ردوبدل کرنے کی بات بھی زمینی حقائق کے برعکس ہے۔
مسٹر کیمرون نے فوجی انخلاء کی بات واشنگٹن میں کہی ہے جہاں انہوں نے صدر اوباما کے ساتھ افغانستان جنگ کے بارے میں بات کی ہے۔
اس سے قبل ڈیویڈ کمرون یہ کہ چکے ہیں کہ وہ وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان سے برطانوی فوج کو آئندہ پانچ سال کے اندر نکال لیا جائے۔
یاد رہے کہ ڈیویڈ کیمرون سے جب یہ پوچھا گیا تھا کہ کیا برطانیہ میں اگلے عام انتخابات سے پہلے وہ برطانوی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلانا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسا ہی چاہتے ہیں اور اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا تھا کہ انہیں اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ افغانستان سے برطانیہ کے روابط لمبی مدت کے لیے ہیں اور وہاں سے فوجوں کی بڑی تعداد کے واپس بلائے جانے کے بعد بھی برطانیہ سکیورٹی فورسز کی تربیت اور معاشرتی ترقی کے لیے مدد فراہم کرتا رہے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنے امریکہ دورے کے دوران بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں ڈیوڈ کیمرون نے کہا آئندہ برس تک افغانستان نے برطانوی فوج کو واپس بلانا ممکن ہوسکتا ہے بشرطیکہ وہاں حالات ٹھیک ہوں۔
’میں لوگوں کی امیدوں کو بڑھانا نہیں چاہتا ہوں۔ فوج کا انخلاء اس بات پر منحصر کرے گا کہ افغانستان میں سیکورٹی کی صورتحال کیسی ہے۔‘







