’عراق سے امریکی فوج کا انخلا: جلد بازی‘

عراق میں امریکی فوجی
،تصویر کا کیپشناس وقت عراق میں ساٹھ ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں

عراق میں اعلیٰ فوجی جنرل نے کہا ہے کہ امریکہ نے عراق سے آئندہ برس تک اپنی فوج واپس بلانے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ ایک قبل از وقت فیصلہ ہے۔

لیفٹینٹ جنرل بابیکر زیباری نے متبنہ کیا ہے کہ عراق کی فوج آئندہ برس تک اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہو سکتی ہے۔

امریکہ نے کہا تھا کہ سال دو ہزار گیارہ کے آخر تک وہ عراق سے اپنی فوج کے انخلا کا عمل پورا کر لے گا۔

<link type="page"><caption> عراق سے انخلا کا منصوبہ کامیابی سے جاری</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/08/100812_us_iraq_withdrawel.shtml" platform="highweb"/></link>

عراق میں ساٹھ ہزار سے زیادہ امریکی فوجی تعینات ہیں۔ منصوبے کے تحت پچاس ہزار فوجی دو ہزار گیارہ تک عراق میں رہے گے اور عراقی فوج کو تربیت فراہم کریں گے۔

جنرل بابیکر کا بیان صدام حسین کے سابق وزیر خارجہ طارق عزیز کے اس بیان کی یاد دلاتا ہے جس میں گزشتہ ہفتے انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ ’عراقیوں کو بھیڑیوں کے لیے چھوڑ رہا ہے‘۔

لیکن وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر باراک اوباما عراق میں جو ترقی ہوئی ہے اور جو صورتحال ہے اس سے مطمئن ہیں اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ اب انتظام عراقی فوج کو دینے کا وقت آگیا ہے۔

جنرل بابیکر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ’اس وقت تو امریکی فوج کے انخلا سے کوئی پریشانی نہیں ہو رہی ہے کیونکہ ابھی بھی فوجی یہاں ہیں لیکن پریشانی سال دو ہزار گیارہ کے بعد شروع ہوگی‘۔

ان کا مزید کہنا تھا ’دو ہزار گیارہ کے بعد جو مشکل ہوگی اور جو کمی محسوس ہوگی اس کو پورا کرنے کے لیے سیاستدان کوئی متبادل ڈھونڈیں۔ اگر مجھ سے امریکی فوج کے انخلا کے بارے میں پوچھا ہوتا تو میں سیاستدانوں سے کہتا کہ فوج دو ہزار بیس تک عراق میں رہے‘۔

بی بی سے کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جنرل کا یہ بیان حکومت کی پالیسی کے انحراف ہے۔ حکومت کی پالیسی ہے کہ وہ سٹیسٹ آف فارسز اگریمنٹ (سوفا) کے اس فیصلہ پر عمل کرے جس کے تحت اس نے امریکی فوج کے انخلا کا وقت دیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عراق میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اس لیے فوج ہٹا رہا ہے کہ ڈیموکریٹس مڈ ٹرم انتخابات میں اپنے ووٹ نہیں کھونا چاہتے۔

عراق میں اگست کے مہینے میں اب تک مختلف حملوں میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ سال دو ہزار آٹھ سے لے کر اب تک ہلاکتوں کے اعتبار جولائی سب سے خطرناک مہینہ ثابت ہوا ہے۔