ترک و یونان کی سرحد پر مشترکہ محافظ

یورپی پونین پہلی بار ترکی کے راستے سرحد عبور کر کے یونان میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی روک تھام کے لیے سرحدی محافظ بھیج رہی ہے۔
اس راستے سے یورپ میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کی اکثریت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ان کا تعلق افغانستان سے ہے۔
یورپی کمیشن نے اتوار کی رات کیے جانے والے اعلان میں کہا ہے کہ ریپڈ بارڈر انٹروینشن ٹیم کے نام سے سرحدوں کی نگرانی کرنے والی یہ فورس 2007 میں تشکیل دی گئی تھی ’لیکن اسے اب پہلی بار سرگرم کیا جا رہا ہے‘۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ یونان میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد ’خطرناک حد تک‘ بڑھ گئی ہے۔
یونان اس سلسلے میں یورپی یونین کی مدد چاہتا ہے اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یونان پر دباؤ انتہائی ’شدید‘ ہے۔
سرحدی امور کے لیے یورپی یونین کے ادارے ’فرنٹیکس‘ کا کہنا ہے مجموعی طور پر یورپ میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔

تاہم اس ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ترکی کی بری سرحد عبور کر کے یونان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کی تعداد بڑھی ہے۔ ادارے کے مطابق اس تعداد میں جاری سال کی دوسری چوتھائی کے دوران میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے اور اس تعداد میں بڑی تعداد افغان باشندوں کی ہے جو یونان میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد ان البانوی باشندوں کی بھی ہوتی ہے جو یونان میں عبوری عرصے کے لیے کام کرنے کے لیے جانا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کی اکثریت یونان کی البانیہ سے ملنے والی شمال مغربی سرحد سے داخل ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن دیگر تقریباً ساڑھے نو ہزار غیر قانونی تارکینِ وطن یونان میں داخل ہو کر یورپی یونین کے دوسرے ملکوں میں جا بسنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یورپین یونین میں امور داخلہ کی کمشنر سیسلیامالمسٹرویم کا کہنا ہے کہ ترکی کے راستے آنے والوں کی اکثریت ڈرامائی طور پر ساڑھے آٹھ میل کے اس سرحدی ٹکڑے سے یونان میں داخل ہوتی ہے جس پر یونانی شہر اوریسٹیاڈا واقع ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مشترکہ سرحد پر لگائی جانے والی ترک یونانی فورس یونانی حکام کی نگرانی میں کام کرے گی اور یہ تعیناتی محدود وقت کے لیے ہو گی اور فرنٹیکس اس میں رابطے کا کام کرے گی۔
فرنٹیکس کا کہنا ہے کہ اس سے قبل 2009 میں ترکی سے راستے یونان میں داخل ہونے والوں میں تقریباً آدھے بری اور آدھے سمندری راستے سے داخل ہوتے تھے۔
اس ادارے کے مطابق ان غیر قانونی تارکینِ وطن میں بہت تھوڑی تعداد ایسے غیر قانونی تارکینِ وطن کی بھی ہوتی ہے جو صومالیہ سے ہوتے ہیں۔







