بن غازی میں یورپی یونین کا دفتر

،تصویر کا ذریعہGetty
یورپی یونین نے لیبیا میں کرنل معمر قدافی کی حکومت کے مخالف گروہوں کو امداد کی فراہمی میں بہتری کے لیے باغیوں کے مرکز بن غازی میں ایک دفتر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یورپی یونین کی امورِ خارجہ کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کا کہنا ہے کہ یہ دفتر سول سوسائٹی اور باغیوں کی نمائندہ عبوری قومی کونسل کی مدد کرے گا۔
انہوں نے یہ بات یورپی پارلیمان میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی پر ہونے والے ایک مباحثے میں بتائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور قذافی کو اقتدار چھوڑنا ہوگا‘۔
انہوں نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ قذافی مخالف باغیوں کی تعلیم، صحت اور سرحدی سلامتی کے معاملات میں مدد کرے۔
اس سے قبل اٹلی کے دارالحکومت روم میں ایک بین الاقوامی گروپ نے لیبیا میں باغی گروپوں کی مالی امداد کے لیے بات چیت کی تھی۔
’لیبیا کانٹیکٹ گروپ‘ نیٹو ارکان، عرب ممالک اور دیگر عالمی تنظیموں پر مشتمل ہے اور اس نے قذافی کے مخالفین کو قرض کی شکل یا باغیوں کےعلاقے میں پائے جانے والے تیل کے عوض مالی مدد فراہم کرنے پر غور و فکر کیا تھا۔
خیال رہے کہ مصر میں بن غازی اور مصراتہ وہ دو اہم شہر ہیں جن پر ابھی تک باغیوں کا قبضہ ہے لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ انہیں مدد کی سخت ضرورت ہے۔ بن غازی میں باغیوں کے پاس رقم کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس سے بات چیت میں’دی ٹرانزیشنل نیشنل کونسل‘ کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ آنے والے دنوں کے لیے انہیں فوری طور پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی




















