لیبیا: کرنل قذافی کی گرفتاری کا مطالبہ

 لوئس مورینو

،تصویر کا ذریعہbbb

،تصویر کا کیپشن لوئس مورینو ہیگ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

جرائم کی عالمی عدالت کے وکیلِ استعاثہ نے لیبیائی رہنما کرنل قذافی اور دیگر دو رہنماؤں کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

لوئس مورینو اوکیمپو کا کہنا ہے کہ کرنک قذافی، ان کے بیٹے سیف لاسلام اور لیبیا کے انٹیلی جنس چیف عبداللہ السنسوئی ملک میں بڑے پیمانے پر شہریوں کے منظم قتلِ عام کے لیے ذمہ دار ہیں۔

ابھی عدالت کے ججوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ان لوگوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جائیں یا نہیں۔

لیبیا کی حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ اس طرح کے کسی بھی اعلان کو نہیں مانتی۔

لیبیا کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ لیبیا اس عدالت کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کا کوئی بھی فیصلہ اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔

ہیگ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لوئس مورینو نے کہا کہ تقریباً بارہ سو دستاویز عینی شاہدین اور دیگر لوگوں کے پچاس انٹرویوز کے بعد وہ اس بات کا ثبوت پیش کر سکتے ہیں کرنل قذافی نے خود نہتے شہریوں پر حملے کا حکم دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ لیبیائی رہنما کے حکم پر فوج نے شہریوں کے گھروں میں گھس کر ان پر حملہ کیا ، مظاہرین پر گولیاں چلائیں اور مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کے جنازوں میں بھاری اسلحہ استعمال کیا گیا۔

لوئس مورینو کا کہنا تھا کہ ان کے دفتر نے ایسی براہِ راست شہادتیں جمع کی ہیں کہ جس میں کرنل قذافی کی ہدایت پر سیف الاسلام نے کرائے کے فوجیوں کو بھرتی کیا اور اس بات کی بھی شہادت موجود ہے کہ سنسوئی نے مظاہرین پر حملے میں شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ الزامات پندرہ فروری کو حکومت مخالف مظاہرے شروع ہونے سے اب تک کی شہادتوں کی بنیاد پر لگائے جا رہے ہیں۔

صرف فروری کے مہینے میں ہی پانچ سو سے سات سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اگر کرنل قذافی کے نام کے وارنٹ جاری ہوئے تو ایسا دوسری مرتبہ ہوگا جب اس عدالت نے کسی سربراہِ مملکت کے خلاف وارنٹ جاری کیے ہوں۔

اس سے قبل سوڈان کے صدر عمر البشیر کے خلاف ڈفرفور میں نسل کشی کے الزام میں وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔