لیبیا: چار غیر ملکی صحافیوں کی رہائی

موسیٰ ابراہیم کا کہنا ہے کہ رہائی پانے والے صحافی ملک میں رہ کر اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دے سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنموسیٰ ابراہیم کا کہنا ہے کہ رہائی پانے والے صحافی ملک میں رہ کر اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دے سکتے ہیں۔

لیبیا کی حکومت نے ان چار غیر ملکی صحافیوں کو رہا کر دیا ہے جو اپریل کے پہلے ہفتے میں لڑائی کی کوریج کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے۔

رہائی پانے والوں صحافیوں میں دو امریکی، ایک برطانوی اور ایک ہسپانوی شہری ہے۔

ان صحافیوں کو بدھ کے روز طرابلس کے اس ہوٹل میں لایا گیا جہاں غیر ملکی صحافی رہائش پذیر ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ہوٹل پہنچنے پر چاروں صحافی تھکے ہوئے اور پریشان دکھائی دے رہے تھے۔

رہائی پانے والے ایک صحافی نے بتایا ہے کہ وہ تمام خیریت سے ہیں۔

لیبیا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ان صحافیوں کو رہا کر دیا ہے جنہیں ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

رہائی پانے والوں میں جیمز فولے، کلیر موگانا جِلس (امریکہ)، ہسپانوی فوٹوگرافر مانو برابو اور برطانوی صحافی نائیجل چانڈلر شامل ہیں۔ لاپتہ ہونے والے جنوبی افریقہ کے فوٹوگرافر اینٹون ہمیری کے بارے میں ابھی تک کچھ پتا نہیں چل سکا۔

امریکی صحافی جیمز فولے گلوبل پوسٹ کے لیے کام کرتے ہیں جبکہ کلیر مورگانا جلِس فر لانسر ہیں۔ انہیں ہسپانوی فوٹوگرافر مانو برابو کے ساتھ چار اپریل کو حراست میں لیا گیا تھا۔

برطانوی صحافی نائیجل چانڈلر فری لانسر ہیں۔ وہ پہلے بی بی سی کے لیے کام کر چکے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے لیبیا کی حکومت نے ترجمان موسیٰ ابراہیم کے حوالے سے کہا ہے کہ رہائی پانے والے صحافی ملک میں رہ کر اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دے سکتے ہیں۔