نیٹو کو لیبیا میں مشکلات کا سامنا

اٹلی نے اتحادیوں سے فوری طور پر جنگی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناٹلی نے اتحادیوں سے فوری طور پر جنگی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے

لیبیا میں نو فلائی زون پر عملدآمد سے متعلق نیٹو کے فضائی مشن کو جاری رکھنے پر یورپی اتحادیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اٹلی اور عرب لیگ نے لیبیا میں جنگ کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کر دیا ہے جب کہ برطانیہ میں لیبیائی مشن پر اخراجات کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

برطانیہ میں سرکاری ذرائع کے مطابق لیبیا میں برطانوی مشن پر اب تک پچیس کروڑ پونڈ خرچ ہو چکے ہیں۔

جمرات کو توقع ہے کہ اس ضمن میں تفصیلات وزارتی سطح پر جاری کی جائیں گی۔

برطانوی حکومت کی فوجی رہنماؤں سے لیبیا میں فوجی آپریشن کے حوالے سے اختلافات کی بھی اطلاعات ہیں۔ رائل ائر فورس کے نائب سربراہ سر سائمن برینٹ کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکاروں کے حوصلے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور کام کی زیادتی کی وجہ سے جنگی جذبے کو خطرہ لاحق ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

سر سائمن نے، جو فضائیہ کے جنگی مشنز کے سربراہ ہیں، گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ فضائی افواج کے کئی شعبے متاثر ہو رہے ہیں جب کہ حکومت کی جانب سے دفاعی بجٹ میں کمی سے فوجی اہلکار محسوس کر رہے ہیں کہ قوم ان کی کوششوں کو کمتر سمجھ رہی ہے۔

برطانوی وزیر دفاع جمعرات کو پارلیمان میں لیبیا میں جنگی اخراجات کے حوالے سے رپورٹ پیش کریں گے۔

یہ رپورٹ شیڈو چانسلر ایڈ بالز کی جانب سے منگل کو لیبیا میں اخراجات کے مسئلے پر دباؤ ڈالنے پر تیار کی گئی ہے۔ مسٹر اوبورن کا کہنا ہے کہ لیبیا کے جنگی اخراجات خصوصی ریزروز سے ادا کیے جا رہے ہیں اور یہ افغانستان میں جاری برطانوی مشن سے بہت کم ہیں۔

برطانیہ نے رواں سال انیس مارچ کو لیبیا میں نو فلائی زون پر عمل درآمد کرانے کے لیے نیٹو کے مشن میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس وقت حکومت نے کہا تھا کہ اس مشن پر دسیوں ملین خرچ ہونگے۔

دریں اثنا برطانوی رکن پارلیمان نے خبردار کیا ہے کہ لیبیا میں اگر رائل ائر فورس کا مشن سمتبر کے بعد بھی جاری رہتا ہے تو اس صورت میں برطانوی فضائیہ کی مستقبل میں کسی ہنگامی حالت سے نمٹنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب اطالوی وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ لیبیا میں جنگی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں تاکہ جنگ سے متاثرہ ملک میں امدادی سرگرمیاں شروع کی جا سکیں۔

انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ نیٹو لیبیا میں فضائی حملوں اور ہداف میں غلطیوں کے حوالے سے اعداو شمار بھی فراہم کرے۔

اٹلی کے ایوان زیریں میں وزیر خارجہ فریلانی نے مطالبہ کیا ہے کہ’ انسانی ہمدری کے ناطے فوری طور پر جنگی کارروائیاں بند کی جانی چاہیں تاکہ امدادی سرگرمیں کے حوالے سے وہاں نظام قائم کیا جا سکے۔

تاہم فرانس کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی وقفے کے حق میں نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty

فرانس کے مطابق فضائی کارروائی میں کسی بھی وقفے کی صورت میں کرنل قذافی کو منظم ہونے کے لیے وقت مل جائے گا۔ ’آخر میں ہماری طرف سے کوئی بھی کمزوری ظاہر کرنے کی صورت میں نقصان صرف عام شہریوں کو ہو گا۔‘

نیٹو کی طرابلس میں شہری آبادی پر فضائی حملے کے بعد اطالوی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ نیٹو کی ساکھ خطرے میں ہے۔

دوسری جانب عرب لیگ کے سربراہ امر موسیٰ نے برطانوی اخبار گارڈین کے ساتھ ایک انٹرویو میں نیٹو کی صلاحیت پر شکوک و شہبات کا اظہار کیا تھا۔

’جب میں دیکھتا ہوا کہ بچوں کو مارا جا رہا ہے تو مجھے لازمی طور پر شک ہوتا ہے، اور اسی وجہ سے شہری ہلاکتوں کے خطرے کے حوالے سے خبردار کرتا ہوں۔‘

امر موسیٰ کے مطابق’ آپ کے پاس کوئی فیصلہ کن اختتام نہیں ہے اور یہ وقت ہے کہ کسی بھی سیاسی حل کے لیے جو کیا جا سکتا ہے وہ کریں۔

دوسری جانب افریقی یونین کے چیئرمین جین پنگ کا کہنا ہے کہ ’ان کو یقین ہے کہ بلآخر مغرب ان کی جنگ بندی کا منصوبہ مان لے گا۔ اس منصوبے میں اقتدار کی منتقلی کا طریقۂ کار موجود ہے تاہم حزب مخالف کے اہم مطالبے، کرنل قذافی کی اقتدار سے علیحدگی کا ذکر موجود نہیں ہے۔

لیبیا میں نیٹو کے مشن کے ترجمان ونگ کمانڈر مائک بریکن نے کہا کہ نیٹو کی صلاحیت پر سوالات نہیں اٹھانے چاہیں بلکہ کرنل قذافی کی افواج انسانی ڈھال کا استعمال کرتے ہوئے مساجد سے میزائل داغتے ہیں۔

لیبیا میں عام شہریوں کو کرنل قذافی کے حملوں سے بچانے کے لیے نیٹو مشن شروع کیا گیا تھا اور پہلے اس کی قیادت امریکہ کے پاس تھی تاہم مارچ کے آخر میں نیٹو زیرکمان شروع ہوا تھا اور اس مشن کو ستائیس جون کو ختم ہونا تھا تاہم اس میں مزید نوے دنوں کی توسیع کی دی گئی ہے۔