لیبیا: سترہ فٹبالرز کا گروپ منحرف

مجھے امید ہے کہ ایک دن جب میں نیند سے بیدار ہونگا تو کرنل قذافی یہاں ہمیشہ کے لیے موجود نہیں ہونگے: عادل بن عیسیٰ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمجھے امید ہے کہ ایک دن جب میں نیند سے بیدار ہونگا تو کرنل قذافی یہاں ہمیشہ کے لیے موجود نہیں ہونگے: عادل بن عیسیٰ

لیبیا کے سترہ نمایاں فٹبالرز کے ایک گروپ نے لیبیائی حکومت سے منحرف ہو کر باغیوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

منحرف ہونے والے فٹبالرز میں قومی ٹیم کے گول کیپر جمعہ گٹٹ اور قومی ٹیم کے دیگر تین کھلاڑی اور دارالحکومت طرابلس کے سب سے مقبول کلب ال اہلے کے کوچ عادل بن عیسیٰ بھی شامل ہیں۔

اس گروپ نے منحرف ہونے کا اعلان جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو مغربی لیبیا میں باغیوں کے زیر اثر پہاڑی علاقے نفاسہ میں بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات کے دوران کیا۔

جادو شہر کے ایک ہوٹل میں موجود گول کیپر جمعہ پرسکون نظر آ رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں کرنل قذافی کو بتا رہا ہوں کہ وہ ہمیں تہنا چھوڑ دیں اور ہمیں لیبیا کو ایک آزاد ملک بنانے دیں۔‘

ہوٹل کے کمرے میں موجود اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ قہقہ لگاتے ہوئے انھوں کہا کہ’میری خواہش ہے کہ وہ یعنی کرنل قذافی ہمیشہ کے لیے اس زندگی کو خیر باد کہہ دیں۔‘

لیبیا میں فٹبال کا جنون ہے اور اس تناظر میں قومی فٹبالرز کا منحرف ہونا کرنل قذافی کے خلاف واضح طور پر پروپیگینڈے کا سبب بنے گا، تاہم کرنل قذافی اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے ہمشیہ سے کسی بھی دباؤ چاہے وہ فوجی یا سیاسی ہو کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔

عادل بن عیسیٰ نے بتایا کہ مغربی پہاڑی علاقے کے انتخاب کا مقصد’یہ پیغام دینا ہے کہ لیبیا کو آزاد اور متحد ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’مجھے امید ہے کہ ایک دن جب میں نیند سے بیدار ہونگا تو کرنل قذافی یہاں ہمیشہ کے لیے موجود نہیں ہونگے۔‘

سپورٹس سٹارز کا معاملہ عوامی رائے کی جنگ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے تاہم باغیوں کو آگے بڑھنے کے لیے مزید فوجی کامیابیوں کی ضرورت ہے۔