عالمی عدالت، قذافی کے وارنٹ جاری

معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کے بھی وارنٹ جاری کیے جانے کی استدعا کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمعمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کے بھی وارنٹ جاری کیے جانے کی استدعا کی گئی ہے

جرائم سے متعلق عالمی عدالت نے لیبیا کے رہنما معمر قذافی، ان کے بیٹے سیف السلام قذافی اور لیبیا کی انٹیلجنس کے سربراہ عبداللہ سنوسی کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے حوالے سے وارنٹ جاری کردیے ہیں۔

وکیلِ استغاثہ لوئیس مورینو اوکیمپو نےجرائم کی عالمی عدالت سے استدعا کی کہ معمر قذافی، سیف الاسلام اور لیبیا کی انٹیلیجنس کے سربراہ عبداللہ سنوسی کے وارنٹ جاری کیے جائیں۔

لیبیا کی وزارت انصاف نے کہا ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کی جانب سے جاری کردہ کرنل قذافی اور ان کے ایک بیٹے سیف کے وارنٹ گرفتاری کو تسلیم نہیں کرتی۔

لیبیائی وزارت کا کہنا ہے کہ یہ وارنٹ صرف نیٹو کو تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے جاری کیے گیے ہیں۔

عالمی عدالت نے کرنل قذافی کی انتظامیہ کے خفیہ فوجی ادارے کے سربراہ کے بھی اسی بنیاد پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

لیبیا کے باغیوں کی کونسل نے کرنل قذافی کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کا خیرمقدم کیا ہے۔

عالمی عدالت کی جج سنجی موناگنگ نے اپنےفیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس یہ یقین کرنے کی مناسب وجوہات موجود ہیں کہ یہ تینوں افراد شہریوں کے قتل میں مجرمانہ طور پر شریک تھے۔

عدالت نے کہا کہ لیبیا کے رہمنا ہونے کے حوالے سے کرنل قذافی کو ریاستِ لیبیا پر مکمل کنٹرول ہے اور انہوں نے عوامی احتجاج کو روکنے کے لیے طاقت کے استعمال کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔

عالمی عدالت کے وارنٹ میں کہاگیا ہے کہ سیف السلام قذافی بظاہر لیبیا کی حکومت میں کوئی عہدہ نہیں رکھتے لیکن وہ لیبیا کی حکومت میں سب سے بااثر شخصیت ہیں۔

لیبیا کی ایسی عدالت کو نہیں مانتا جو افریقی رہنماؤں کے خلاف پالیسی اپنائے ہوئے ہے: لیبیا حکومت ترجمان

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنلیبیا کی ایسی عدالت کو نہیں مانتا جو افریقی رہنماؤں کے خلاف پالیسی اپنائے ہوئے ہے: لیبیا حکومت ترجمان

انٹیلجنس چیف سنوسی کےحوالے سے عدالت نے کہا کہ انہوں نے بالواسطہ طور پر فوجیوں کو بن غازی میں احتجاج کرنے والے عام شہریوں پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا۔

مصراتہ میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو ہارڈنگ نے بتایا ہے کہ عالمی عدالت کےفیصلے کے بعد مصراتہ میں خوشی سے فائرنگ شروع ہوگئی۔

لیبیا کی حکومت کے ترجمان موسیٰ ابراہیم نے کہا کہ لیبیا ایسی کسی عدالت کو نہیں مانتا جو افریقی رہنماؤں کےخلاف پالیسی اپنائے ہوئے ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

البتہ برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نےعدالتی کےحکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کی طرف سے وارنٹ جاری کرنے کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرنل قذافی اپنی حیثیت کھو چکے ہیں اور انہیں اقتدار سے فوراً علیحدہ ہو جانا چاہیے۔

عالمی عدالت نے لیبیا کے رہمنا کے وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ ایسے وقت ہوا ہے جب لیبیا کے خلاف جاری آپریشن کو سو دن مکمل ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب لیبیا میں باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ دارالحکومت طرابلس سے پچاس کلومیٹر دور معمر قذافی کی فوجوں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ باغیوں کے ترجمان نے جو نفوسا کی پہاڑیوں میں ہیں ،بی بی سی کو بتایا کہ اہمیت کے حامل بیر الغنم کے مضافات میں شدید لڑائی جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ دارالحکومت طرابلس پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

معمر قذافی کے مخالفین کا مشرقی لیبیا پر کنٹرول ہے جبکہ مغربی لیبیا کے کچھ علاقوں پر کنٹرول ہے جن میں نفوسا پہاڑیاں بھی شامل ہیں۔

بیر الغنم میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈوئل نے بتایا ہے کہ یہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب لیبیائی فوج نے باغیوں کے پیچھے سے حملہ کیا۔