’ہلاکتیں، ہتھیاروں کے نظام کی ناکامی‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

نیٹو نے تسلیم کیا ہے کہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ایک مکان پر فضائی حملے میں عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعہ کا سبب اس کے’ہتھیاروں کے نظام کی ناکامی‘ہو سکتا ہے۔

لیبیا میں سرکاری حکام کے مطابق دارالحکومت طرابلس کے سق الجمعہ کے علاقے میں ایک مکان پر نیٹو کے فضائی حملے میں دو بچوں سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے۔

نیٹو کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کا نشانہ ایک فوجی میزائل مرکز تھا لیکن ظاہر ہوتا ہے کہ’ ایک ہتھیار‘ نے اس کو نشانہ نہیں بنایا۔

’نیٹو کو عام شہریوں کی ہلاکت پر افسوس ہے اور ایسی حکومت کے خلاف فضائی حملوں میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہیں جو خود اپنے شہریوں پر تشدد کا استعمال کرتے ہیں۔‘

لیبیائی آپریشن میں نیٹو کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل چارلس بوچررڈ کا کہنا ہے کہ’ اگرچہ ابھی تک اس واقعے کے حوالے سے تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم ہتھیاروں کے نظام کی ناکامی اس واقعہ کی وجہ ہو سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

نیٹو کے مطابق اب تک لیبیا پر گیارہ ہزار پانچ سو فضائی پروازیں کی ہیں اور ہر مشن کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور انتہائی احتیاط سے اس پر عمل کیا جاتا ہے تاکہ عام شہریوں کی ہلاکتیں نہ ہوں۔

اس سے پہلے نیٹو کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ اس کے فضائی حملے کا نشانہ بننے والی عمارت رہائشی تھی تو اسے عام شہریوں کی ہلاکت پر افسوس ہو گا۔

<link type="page"><caption> لیبیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/06/110609_libya_icc_fz.shtml" platform="highweb"/></link>

سنیچر کو نیٹو نے الزام عائد کیا ہے کہ لیبیا میں کرنل قذافی کی حامی فوجیں مساجد اور بچوں کے پارکوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہیں جبکہ لیبیائی حکام کے مطابق نیٹو کے فضائی حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا جا رہا ہے۔

نیٹو کے مطابق کرنل قذافی کی فوج ایک منظم طریقۂ کار کے تحت لیبیائی شہریوں پر وحشیانہ حملے کر رہی ہیں۔

نیٹو کا یہ بیان لیبیا کی جانب سے اس الزام کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ نیٹو افواج جان بوجھ کی عام شہریوں کی عمارتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

جمعہ کو لیبیا کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ نیٹو ایک نئی سطح کی جارحیت کا استعمال کر رہا ہے۔

’ہمارے پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ نیٹو جان بوجھ کر شہری عمارتوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور یہ انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے۔‘

نیٹو جان بوجھ کر عام شہریوں کی عمارتوں کو نشانہ بنا رہا ہے: لیبیائی حکومت

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننیٹو جان بوجھ کر عام شہریوں کی عمارتوں کو نشانہ بنا رہا ہے: لیبیائی حکومت

نیٹو نے ان الزامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

دوسری طرف نیٹو نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے جنگی جہازوں نے جمعرات کو غلطی سے باغیوں کی فورسز کو نشانہ بنایا تھا۔ نیٹو کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی لیبیا کے قصبے بریگا میں فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان کے مطابق باغیوں کا یہ قافلہ اس جگہ پر موجود تھا جہاں کرنل قذافی کی حامی افواج موجود ہیں۔

نیٹو نے اس واقعہ میں کسی بھی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے بدقسمتی قرار دیا ہے۔

لیبیا میں مارچ سے نیٹو افواج کے فضائی حملوں میں اب تک متعدد باغی جنگجو اور عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

دریں اثناء باغیوں نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ کے پاس مالی وسائل ختم ہو گئے ہیں کیونکہ امداد دینے والوں نے اپنے وعدوں کے مطابق ابھی تک فنڈز فراہم نہیں کیے ہیں۔