لیبیا: قذافی کے بغیر بات چیت کا خیرمقدم

افریقی یونین کی اجلاس کی ایک فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنافریقی یونین کا کہنا ہے کہ جنگي جرائم کی عالمی عدالت افریقی ممالک کے ساتھ امتیازی سلوک رکھتی ہے

لیبیا میں باغیوں نے افریقی یونین کی اس پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے جس میں حکومت کے ساتھ مذاکرات میں کرنل قذافی براہ راست شریک نہیں ہوں گے۔

ُادھر افریقی یونین نے رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ لیبیا کے صدر کرنل قذافی کی گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد نہ کریں جو جرائم سے متعلق بین الاقوامی عدالت کی طرف سے جاری کیےگئے ہیں۔

حکومت مخالف باغیوں نے افریقی یونین کی اس پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے جس میں لیبیائی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں کرنل قذافی براہ راست شریک نہیں ہوں گے۔

لیبیا میں باغیوں کی مرکزی تنظیم نیشنل ٹرانزیشنل کونسل نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار ہے جب افریقی یونین نے لیبیائی عوام کی جمہوریت کی خواہش اور ان کے انسانی حقوق کو تسلیم کیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ لیبیا کے مستقبل میں کرنل قدافی کا کوئی کردار نہیں ہے۔

باغیوں کی لیبیائی حکومت کے ساتھ قذافی کی براہِ راست شرکت کے بغیر بات چیت شروع کرنے کی پیشکش کا فیصلہ ایکواٹوریل گِنی میں افریقی ممالک کے ایک اجلاس میں کیا گیا ہے۔

لیبیائی حکومت کے ترجمان موسیٰ ابراہیم نے افریقی یونین کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

اس اجلاس میں افریقی یونین نے اپنے ممبران ممالک سے کہا ہے کہ وہ لیبیا کے صدر کرنل قذافی کے خلاف جاری جنگی جرائم سے متعلق عالمی عدالت کے وارنٹ پر عمل نہ کریں۔

افریقی یونین کا کہنا ہے ہیں کرنل قدافی کے خلاف جاری وارنٹ نے لیبیا کے سیاسی مسائل کو حل کرنے کے ان کے مشن کو مزید مشکل کر دیا ہے۔

افریقی یونین کے سربراہ جین پنگ نے کہا ہے کہ افریقی رہنما جنگی جرائم کی عالمی عدالت یعنی آئی سی سی کے خلاف نہیں ہیں لیکن انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افریقی ممالک کے حکام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

طرابلس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’آئی سی سی یورپ کی گوانتانامو بے ہے، یہ صرف افریقی رہنماؤں کے خلاف ہے اور یہ یورپی اور امریکی رہنماؤں کے جرائم پر توجہ نہیں دیتی ہے۔‘

واضح رہے کہ کرنل قدافی اور ان کے بیٹے سیف الاسلام اور انٹلیجنس چیف عبداللہ سنوسی پر الزام ہے کہ انہوں نے انسانیت کے خلاف جرائم کیے ہیں۔