قذافی ملک چھوڑنے پر تیار ہیں:فرانس

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنعالمی برادری لیبیا میں جاری لڑائی ختم کرنے کے لئے معمر قذافی سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

فرانس کا کہنا ہے کہ اس نے لیبیا کے صدر معمر قذافی کے ایک ایلچی سے رابطہ کیا ہے جس کا کہنا ہے کہ ’ قذافی ملک چھوڑنے کے لیے تیار ہیں‘۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ ایلن جوپ نے فرانسیسی ریڈیو کو بتایا ’لیبیا کی حکومت اب ہر جانب اپنے پیغام بھیج رہی ہے، ترکی، امریکہ اور فرانس جن میں کرنل قذافی کے ملک سے نکلنے کی پیشکش کی گئی ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ رابطے لیبیا کے ساتھ جاری مذاکرات کا حصہ نہیں ہیں۔

لیبیا میں شہریوں کے تحفظ کے لیے اقوامِ متحدہ سے منظوری کے بعد لیبیا کے خلاف کی جانے والی نیٹو کی فوجی کاروائی میں فرانس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے منگل روز فرانس انفو ریڈیو کو بتایا ’ہم سے لیبیا کی حکومت کے کئی نمائندے مل رہے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ قذافی ملک چھوڑنے کو تیار ہیں۔ آئیں اس پر بات کریں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’رابطے ہو رہے ہیں لیکن اس مرحلے پر کوئی مذاکرات نہیں کیے جا رہے‘۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے یہ نہیں بتایا کے یہ نمائندے کون ہیں۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان برنارڈ والیرو کا کہنا ہے ’یہاں کچھ نمائندہ آئے ہیں جو کہتے ہیں کہ انہیں قذافی نے بھیجا ہے۔ اہم یہ ہے کہ ہم بھی انہیں یہی پیغام بھجوائیں اور ہم اس معاملے میں اپنے اتحادیوں سے قریبی رابطہ رکھے ہوئے ہیں‘۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس کی پارلیمنٹ میں لیبیا پر چار ماہ سے جاری فضائی حملوں کے جاری رہنے کے بارے میں بحث ہو رہی ہے۔

فرانس کے وزیرِ اعظم نے اسمبلی کو بتایا ہے کہ لیبیا کے مسئلے کا سیاسی حل نکلنا شروع ہو گیا ہے۔

لیبیا کے مشرق اور بعض مغربی حصوں پر باغیوں کا کنٹرول ہے تاہم وہ دارالحکومت تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے جہاں اب تک کرنل قذافی کا اختیار ہے۔

فرانس اور اس کے دیگر اتحادی زور دیتے رہے ہیں کہ لیبیا کے رہنما معمر قذافی لڑائی ختم کرنے کے لئے اقتدار چھوڑ دیں۔