فسادات روکنے کے لئے پولیس کیا کرے؟

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنفسادات کا سلسلہ برمنگھم، لیورپول اور برسٹل تک پہنچ چکا ہے

لندن اور اس کے گرد ونواح میں تین راتوں کے فسادات کے بعد پولیس کو مزید بدانتظامی سے بچنے کے لئے کیا اقدامات کرنے ہوں گے۔

فسادات کے بعد یہ سوالات سامنے آئے کہ کیا لوٹ مار کو روکنے ، آتشزدگی اور تشدد کے واقعات کو روکنے کے لیے کافی اقدامات کیے گئے؟

ہوم سیکرٹری ٹیریسا مئے سے پوچھا گیا کہ وہ لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے تیز دھار پانی کے استعمال کی اجازت دیں گی یا حالات پر قابو پانے کے لیے کرفیو لگانے یا فوج کو بلانے کے بارے میں سوچا جائے گا۔

جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ممالک کے برعکس برطانیہ کی پولیس ایسے روایتی حربوں پر انحصار نہیں کرتی۔ لیکن ان کا کہنا تھا موجودہ حالات میں پولیس کو جو بہتر لگے گا وہ اس پر غور کریں گی۔

جیسا کہ فسادات کا سلسلہ برمنگھم، لیورپول اور برسٹل تک پہنچ چکا ہے پولیس کو انہیں روکنے کے لئے کیا حربے استعمال کرنے ہوں گے۔

واٹر کینن ( پانی کی تیز دھار)

اس طریقے میں لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے ان پر پانی کی دھار انتہائی دباؤ کے ساتھ پھینکی جاتی ہے۔ یہ طریقہ ائر لینڈ، فرانس ، جرمنی، اور دیگر یورپی ممالک میں اپنایا جاتا ہے۔

پانی کے ذریعے لوگوں کو منشتر کرنا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپانی کے ذریعے لوگوں کو منشتر کرنا

کنزرویٹو پارٹی کے ایک رکن پارلیمان اور سابق فوجی افسر نے مطالبہ کیا کہ پولیس کو یہ طریقہ کار اختیار کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ انہوں نے خود یہ حربہ استعمال کیا ہے اور یہ انتہائی کار آمد ہے۔

کوئنز یونیورسٹی بیلفاسٹ میں پبلک آرڈر کے ماہر ڈاکٹر پیٹر شیرلو اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ایسی ٹیکنیک بہت کارآمد ہوتی ہیں۔ لیکن انہوں نے خبردار کیا چونکہ برطانیہ میں ایسا پہلے کبھی نہیں کیا گیا لہذا اس سے یہ تاثر مل سکتا ہے کہ انتظامیہ نے حالات پر قابو کھو دیا ہے اور اس سے کشیدگی کو ہوا مل سکتی ہے۔

بیٹن راؤنڈ (ربڑ کی گولیاں)

بیٹن راؤنڈ جنہیں ربڑ کی گولیاں بھی کہا جاتا ہے یہ شمالی آئر لینڈ میں لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے استعمال کی گئیں تاہم ان کے باعث بعض ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ یہ گولیاں ایک خاص گن سے فائر کی جاتی ہیں اور خاص طور پر پلاسکٹ سے بنائی جاتی ہیں تاکہ اس سے نقصان کم سے کم ہو۔

پولیس کی کارروائی کو نظر انداز کرنا

جب ایک پولیس افسر کسی شخص کو حراست میں لیتا تو ایک طریقہ کار کے مطابق قانون کے تحت اسے پولیس اسٹیشن لے جایا جاتا ہے، جہاں دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ اسے یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ یہ حراست ہر طرح سے جائز ہے۔

معاشرتی پالیسی کے پروفیسر پیٹر ویڈنگٹن کہتے ہیں کہ حکومت کو ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے سے گریز کرنا چاہئیے جو ’ریاستی ہنگامی حالت‘ کی طرف اشارہ کرے۔

کرفیو

ایک برطانوی رکن پارلیمان نے فسادات سے متاثرہ علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

کرفیو کے ذریعے سڑکیں خالی کروانا۔
،تصویر کا کیپشنکرفیو کے ذریعے سڑکیں خالی کروانا۔

ان کا کہنا تھا ’ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان ہر رات سڑکوں پر نکلیں اور لوٹ مار کریں‘۔

تاہم ڈاکٹر پیٹر شیرلو کا کہنا ہے کہ رات کے وقت لوگوں کے گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی لگانےسے ایسے وقت میں کام کرنے والوں کی کمی ہوجائے گی جب پہلے ہی وسائل کم ہوتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ’ اگر آپ کے پاس پہلے ہی پولیس کی تعداد بمشکل پوری ہے ایسے میں آپ کرفیو کو کس طرح برقرار رکھ پائیں گے‘؟

فوج

شمالی آئر لینڈ کے ایک علاقے میں شدید لوٹ مار اور آتشزدگی کے بعد وہاں کے رہنما مائیک فشر کے فوج طلب کر لی تھی۔

ڈاکٹر شیرلو کا کہنا ہے کہ’برطانوی فوج کو اس سے پہلے فساد کی صورتحال کا تجربہ ہے جب انہیں شمالی ائیر لینڈ اور عراق میں تعینات کیا گیا‘۔

لیکن انہوں نے ایک مرتبہ پھر خبردار کیا کہ برطانوی عوام فوج کو سڑکوں پر دیکھنے کے خیال سے کبھی بھی مطمئن نہیں ہوئے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ شہری بد امنی سے نمٹنے کے لئے پولیس کی تربیت اور فوج کی جنگی تربیت میں بہت زیادہ تضادات ہیں۔