برطانیہ فسادات، دو ہزار افراد گرفتار

،تصویر کا ذریعہGetty

برطانیہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ لوٹ مار اور فسادات سے تعلق کی بنا پر اب تک دو ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

حکام کے مطابق صرف دارالحکومت لندن میں لوٹ مار اور فساد کے الزام میں گرفتار سات سو افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے عدالتیں اختتام ہفتہ پر بھی کام جاری رکھیں گی۔

<link type="page"><caption> فسادیوں کے خلاف جوابی کارروائی شروع ہو چکی ہے: ڈیوڈ کیمرون</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/08/110809_london_unrest_spread_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

برطانوی شہر برمنگھم میں ایک مرد اور ایک نوجوان پر تین افراد کو گاڑی تلے کچل کر قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

یہ تینوں افراد اپنی دکانوں کو لوٹ مار کرنے والوں سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

برطانوی وزیر خزانہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ لوٹ مار کی وجہ گہرے سماجی مسائل اور لوگوں کے کئی حلقوں کو عرصہ دارز سے نظر انداز کرنا ہے۔

واضح رہے کہ لندن میں گزشتہ سنیچر کو شمالی لندن کے علاقے ٹوٹنہم میں ایک شخص کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد فسادات کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو بعد میں مختلف علاقوں میں پھیل گیا تھا اور یہ سلسلہ تقریباً چار روز تک جاری رہا تھا۔ اس دوران خاص طور پر لندن میں لوٹ مار کی گئی اور بڑی تعداد میں املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

ان فسادات اور لوٹ مار پر برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ انسانی حقوق کے بارے میں ’جعلی‘ فکرمندی کو رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا اور لوٹ مار کرنے والوں کو تصاویر سے پہچان کران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہنگاموں کے دوران لوٹ مار کرنے والوں لوگوں اور بچوں کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ برطانوی معاشرے کے کچھ حصے ’بیمار‘ ہو چکے ہیں۔