نتیش کا اصلی رنگ کیا ہے

- مصنف, ایم ایس احمد
- عہدہ, پٹنہ
ہندوستانی سیاست کے سیکولر حلقے میں سخت تنقید کا نشانہ رہے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سے شامل مجلس ہونے کے بعد بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار چہار سو تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔
وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے نتیش کمار کی سیکولر شبیہ کو مشتبہ قرار دیا جبکہ چند دن قبل ہی کانگریس کے جنرل سیکریٹری راہل گاندھی نے انہیں 'اچھا' کام کرنے والا بتا کر انکی حمایت حاصل ہونے کی توقع کا اظہار کیا تھا۔
ڈاکٹر منموہن سنگھ کے اس بیان کا نتیش کمار نے کافی سخت انداز میں جواب دیا ہے۔ نتیش کا کہنا ہے ' منموہن سنگھ یونی ورسٹی آف سیکولرزم کے وائس چانسلر نہیں کہ جن سے انہیں سیکولر ہونے کا سرٹیفیکٹ لینے کی ضرورت ہو'۔
نریندر مودی سے ملاقات کے بعد لالو پرساد نے نتیش کے بارے میں اپنی وہ پرانی بات دہرائی کہ 'نتیش کے پیٹ میں دانت ہیں' ۔ ہندی کے اس محاورے سے انکی مراد یہ ہے کہ نتیش ظاہر میں کچھ باطن میں کچھ اور ہیں۔
'پیٹ میں دانت' کےالزام کا بھی نتیش نے کافی ترشی بھرا جواب دیا۔ انہوں نے کہا 'ڈاکٹر لالو چاہیں تو میرا ایم آر آئ کرا لیں، میرے پیٹ میں دانت نہیں ہیں۔'
چار سال سے ہندو نواز بھارتیہ جنتا پارٹی کے اشتراک میں حکومت چلا رہے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے نریندر مودی سے ہر ممکن موقع پر علیحدگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی لیکن اتوار کو لدھیانا میں منعقدہ این ڈی اے کے پروگرام میں نریندر مودی سے مصافحہ کیا اور ہاتھ لہرا کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا تو انہیں فوراً اس سوال کا جواب دینا پڑا کہ شریک ڈائس نہ ہونے کی انکی بات کا کیا بنا؟
اس ملاقات سے اس واقعہ کی یاد تازہ ہو گئ جب سارک سمٹ کے دوران کٹھمنڈو میں پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہار واجپئ کی جانب مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو دونوں ملکوں کے درمیان شدید کشیدگی کے باوجود مسٹر واجپئ انکار نہ کر سکے۔
نتیش کمار کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کے بارے میں انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا تھا اور بقول نتیش 'یہ میڈیا کا کریشن ہے'۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب جب ایک نجی ٹیلیوژن چینل نے وہ کلپنگ دکھلائی جس میں نتیش کمار صاف طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ نریندر مودی کے ساتھ ڈائس شیئر کرنے کا سوال ہی نہیں تو ان کی پارٹی کو دفاعی انداز اختیار کرنا پڑا۔
نتیش کی پارٹی جے ڈی یو کے ترجمان شوانند تواری کاکہنا ہے کہ نتیش کمار نریندر مودی کے پروگرام میں نہیں بلکہ این ڈی اے کے پروگرام میں گیے تھے۔ مسٹر تواری نے دلیل دی کہ کئ بار قومی حکومت کے پروگرام میں وزراء اعلی کو شامل ہونا ہوتا ہے اور الفابیٹیکل آرڈر میں نتیش اور نریندر کی نشستیس ایک ہی جگہ ہوتی ہیں مگر اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ نتیش نریندر مودی کے ساتھ ہو گیے۔
نتیش کمار کو نریندر مودی سے ملاقات کے بعد اس لیے بھی تنقید کا سامنا ہے کیونکہ اس سے قبل وہ این ڈی اے کی کئ میٹنگ میں شامل نہیں ہوۓ تھے جن میں نریندر مودی شامل تھے۔

نتیش کمار کی نریندر مودی سے ملاقات کی تنقید بالخصوص اس وجہ سے بھی ہو رہی ہے کہ جب تک بہار میں الکشن مکمل نہیں ہوئے نتیش کمار نے نریندر مودی کا چرچہ تک نہیں ہونے دیا۔ یہاں تک کہ بی جے پی کا اسٹار مہم جو ہونے کے باوجود بہار میں کیپین کے لیے نریندر مودی بہار نہیں آئے۔
نتیش کمار سے جب نریندر مودی کے بہار نہ آنے کے بارے میں سوال کیا جاتا تو ان کا ہمیشہ جواب ہوتا کہ بہار میں ایک ہی مودی ( بی جے پی سے تعلق رکھنے والے نائب وزئر اعلیٰ سشیل کمار مودی) ہی کافی ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نتیش کمار کے لیے لدھیانا کا پروگرام چھوڑنا بہت مشکل کام تھا۔ نتیش کمار اگر اس پروگرام میں نہیں جاتے تو پھر یہ قیاس آرائی مضبوط ہوتی کہ وہ کانگریس کے ساتھ جا سکتے ہیں جبکہ وہ بہار میں بی جے پی کے بغیر حکومت چلانے کی حالت میں نہیں ہیں۔
ریاست میں نتیش کمار کو مسلمانوں کی بالعموم حمایت حاصل نظر آتی ہے مگر مرکز میں بی جے پی کی حمایت کے مسئلے پر مسلمان نتیش کے ساتھ نظر نہیں آتے۔ سیاسی مبصروں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی سے ملاقات کے بعد مسلمانوں کا وہ حلقہ مایوس ہوا ہے جو نتیش کمار کی سیکولر ہونے کے نام پرحمایت کرتا ہے۔
نتیش کمار کی اس ملاقات سے ان کے سیاسی حریفوں کو بھی یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ نتیش کا اصلی رنگ کیا ہے۔ اس الکشن میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے ووٹ کا سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے لالو پرساد تو پہلے سے کہ رہے تھے کہ نتیش کمار اس آدمی کو وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں جو بابری مسجد کی مسماری کا مجرم ہے۔
اس ملاقات کے بعد لالو نے کہا کہ جو لوگ نتیش کمار کو سیکولر کہ رہے تھے وہ سوچیں کیا نتیش کی ہیں۔ انکا اشارہ لیفٹ پارٹیز اور کانگریس کے جنرل سیکریٹری راہل گاندھی کی جانب ہے جو نتیش کمار کو اپنے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔





















