'' حملے میں حکومت پاکستان کا ہاتھ ''

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
ممبئی حملوں کے مقدمہ کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت میں وکیل استغاثہ اجول نکم نے اپنی حتمی جرح کے آغاز میں منگل کے روز کہا کہ ممبئی حملے حکومت پاکستان کی پشت پناہی میں ہوئے۔
نکم نے اپنے اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے عدالت میں کئی دلائل بھی پیش کیے۔
ان کے مطابق حملہ آوروں کو تربیت لشکر طیبہ نے دی تھی لیکن یہ تربیت پاکستانی سرزمین پر فوج اور انٹیلی جنس کے چند افسران کی نگرانی میں دی گئی۔ نکم نے کہا کہ اگر حملے میں صرف لشکر طیبہ کا ہاتھ ہوتا تو وہ فورا اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لیتے کیونکہ انہیں اس سے فائدہ ہوتا ہے لیکن اس کیس میں انھوں نے ایسا نہیں کیا۔
اجول نکم نے دعوی کیا کہ اجمل قصاب نے اپنے اقبالی بیان میں کہا تھا کہ تربیت کے دوران ایک میجر جنرل آتے تھے۔ نکم نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ تفتیش کے دوران کرنل آر سعادت اللہ کا نام سامنے آیا ہے۔
وکیل استغاثہ اجول نکم نے عدالت میں مزید کہا کہ ممبئی پر حملہ کرنے کے لیے دس حملہ آور آئے تھے اورانہیں فرضی شناختی کارڈ دیے گئے تھے۔ ایک حملہ آور عمران بابر نے مقامی ٹی وی چینل کو فون کر کے اسے گمراہ کرنے کے لیے کہا تھا کہ وہ حیدرآباد سے فون کر رہا ہے۔

نکم نے عدالت میں اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حملے کی سازش بہت پہلے رچی گئی تھی۔ اور اس کے لیےامریکہ کے شہر نیو جرسی میں اکاؤنٹ کھولا گیا تھا جس کے لیے رقم ایک پاکستانی شہری محمد اقبال نے دی تھی۔
سرکاری وکیل نکم نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان نے لیکن آج تک حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی حکومت نے حملے دوران ہلاک ہونے والے نو حملہ آوروں کی لاشیں قبول کی ہیں۔ حملہ آوروں کی لاشیں ممبئی کے ایک ہسپتال میں رکھی ہوئیں ہیں۔
سرکاری وکیل کے دلائل بدھ کے روز بھی جاری رہیں گے۔ استغاثہ کو عدالت میں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ اجمل قصاب کو پولیس آپریشن کے دوران گرفتار کیا تھا کیونکہ قصاب نے عدالت کے سامنے یہ بیان دیا تھا کہ وہ پاکستان سے دہلی سمجھوتہ ایکسپریس سے آئے تھے اور بعد میں ممبئی آئے اور پولیس نے انہیں ممبئی حملوں سے چند روز قبل گرفتار کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قصاب نے عدالت میں یہ بھی کہا تھا کہ انہیں ہاتھ میں گولی پولیس حراست کے دوران ماری گئی تھی جبکہ پولیس کا دعوی ہے کہ سی ایس ٹی سٹیشن اور کاما ہسپتال میں فائرنگ کرنے کے بعد قصاب اور ان کے ساتھی ابو اسماعیل فرار ہو رہے تھے اور پولیس نے انہیں گرگام چوپاٹی سے گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق اس تصادم میں قصاب کو محضگولی لگی جبکہ ابو اسماعیل کی موت واقع ہو گئی
واضح رہے کہ عدالت میں قصاب نے پولیس کی حراست میں دیے گئے حلفیہ بیان سے انکار کر دیا تھا۔ ان کے مطابق حلفیہ بیان جسمانی ذہنی اذیت اور زدوکوب کے ذریعے ان سے لیا گیا تھا، جبکہ استغاثہ کا دعوی ہے کہ ان کے پاس اقبالیہ بیان کے علاوہ سی ایس ٹی سٹیشن کی سی سی ٹی وی فٹیج ، تیس عینی شاہدین کی گواہیاں اور ڈی این اے ٹیسٹ بطور ثبوت موجود ہیں۔
عدالت میں آج سرکاری وکیل کی جرح کے دوران ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل اور ریاستی وزیر مملکت برائے داخلہ رمیش باگوے اور کرائم برانچ چیف راکیش ماریا موجود تھے۔
چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کو ممبئی پر ہونے والے حملوں میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ حملوں کے مقدمہ کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت کی تشکیل کی گئی ہے جس میں پاکستانی شہری اجمل قصاب اور دو ہندستانی شہری فہیم انصاری اور صباح الدین شیخ کے خلاف مقدمہ کی سماعت جاری ہے۔







