عوام خوفزدہ نہیں ہونگے، کرزئی کی مذمت

افغان صدر حامد کرزئی نے گزشتہ روز نیٹو کے ہیڈکوارٹرز کے باہر ہونے والے خود کش بم حملے کی مذمت کی ہے جس میں سات افراد ہلاک اور نوے زخمی ہو گئے تھے۔
زخمی ہونے والوں میں افغان پارلیمنٹ کی خاتون رکن حوا نورستانی بھی شامل ہیں۔
افغان صدر نے کہا کہ افغان عوام اس خود کش حملے سے خوفزدہ نہیں ہوں گے اور جمعرات کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے دشمن انتخابات کے موقع پر عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود لوگوں کو پولنگ سٹیشنوں پر جا کر ووٹ ڈالنے کی اہمیت کا بخوبی علم ہے۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار مارٹن پیشنس کے مطابق افغان دارالحکومت میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس نوعیت کے مزید حملے بھی ہوں گے۔
اگرچہ افغان طالبان نے اس خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس حملے کا انداز یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ خود کش حملہ کسی اور افغان گروہ نے کیا ہے۔
سن دو ہزار آٹھ کے بعد کابل میں ہونے والے دو تباہ کن خود کش بم حملوں کا الزام مجاہدین کے دور کے کمانڈر جلال الدین حقانی کے گروہ کر لگایا گیا ہے۔
جس جگہ دھماکہ ہوا ہے وہ جگہ انتہائی محفوظ سمجھی جاتی ہے کیونکہ امریکی سفارتخانہ اور قصر صدارت بھی اسی علاقے میں واقع ہے۔ دھماکے کی جگہ سے بلند ہوتا ہوا دھواں دور دور تک دیکھا جا سکتا تھا۔
امر یکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے امریکی فوج کی ترجمان کیپٹن ایلزبیتھ ماتھیاس کے حوالے سے کہا ہے کہ دھماکہ نیٹو ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازے کے قریب ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ خود کش بمبار افغان پولیس کی کئی چوکیوں کے پاس سے گزر کر نیٹو ہیڈکوارٹرز کے مرکزی دروازے سے صرف تیس میٹر فاصلے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
ایساف کے ترجمان بریگیڈیئر ایرک ٹریمبلے نے برطانوی نیوز ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ خود کش بمبار ’ہمارے ڈیفنس سسٹم میں گھس آیا تھا اور اسے افغان فوج نے روکا‘ جس پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
یہ دھماکہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب افغانستان میں بیس اگست کو ہونے والے صدارتی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے لیے تیاریاں زوروں پر ہیں۔
افغانستان میں ایسے حملوں کا پہلے سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کیونکہ طالبان نے عوام سے کہا کہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لیں۔





















