امریکہ براہ راست بات کیلیےتیار

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے ساتھ براہ راست بات کرے گا کہ وہ جوہری پروگرام پر رکے ہوئے مذاکرات کو دوبارہ شروع کر دے۔
شمالی کوریا نے گزشتہ اپریل کو اپنے راکٹ لانچ پر بین الاقوامی تنقید کے بعد کثیر فریقی مذاکرات سے اپنے مندوب واپس بلا لیے تھے۔
امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ اس طرح کے مذاکرات کب ہوں گے۔
ترجمان فل کراؤلے نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکہ کی پالیسی شمالی کوریا کے متعلق بدلی ہے۔ انہوں نے کہا یہ ایک گوشہ گیر ملک کو مذاکرات میں واپس لانے کے لیے قلیل مدتی اقدام ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں شمالی کوریا کو قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ وہ جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے کیےجانے والے چھ فریقی مذاکرات کے عمل میں واپس آ جائے۔
اس ہفتے کے آغاز میں امریکہ کے شمالی کوریا پر خصوصی ایلچی نے ایشیا میں سیول، بیجنگ اور ٹوکیو میں حکام سے بات چیت کی تھی۔
ستمبر 2005 میں جنوبی کوریا نے امداد کے بدلے میں اپنا جوہری پروگرام بند کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔ یہ مذاکرات شمالی اور جنوبی کوریا، چین، جاپان، روس اور امریکہ کے درمیان ہوئے تھے۔ اسی لیے انہیں چھ فریقی مذاکرات کہا جاتا ہے۔

















