لیبیا: باغیوں کی گوالِش کی جانب پیشقدمی

باغیوں کا دعوٰی ہے کہ انہوں نے حکومت کے حامی کئی فوجیوں کو پکڑ لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنباغیوں کا دعوٰی ہے کہ انہوں نے حکومت کے حامی کئی فوجیوں کو پکڑ لیا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ لیبیا میں باغیوں نے گوالِش کی جانب پیشقدمی کی ہے جو دارالحکومت طرابلس سے ایک سو کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

اِس چھوٹے سے علاقے کی جانب بڑھنا، گاریان کے شہر میں چھاؤنی کی طرف جانے کے لیے انتہائی اہم ہے جہاں سے دارالحکومت جانے والی سڑک کی نگرانی کی جاتی ہے۔

باغیوں کا دعوٰی ہے کہ انہوں نے حکومت کے حامی کئی فوجیوں کو پکڑ لیا ہے۔

ملک کے مغرب میں مصراتہ کی بندرگاہ کے قرب و جوار میں بھی باغیوں نے پیشقدمی کی ہے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ باغیوں نے کرنل قذافی کی فوجوں سے کئی گھنٹوں کی لڑائی کے بعد گوالِش پر قابو پا لیا ہے۔

چند لوگوں کا کہنا ہے کہ باغیوں نے اس علاقے کے مغربی حصے پر قابو پا لیا ہے جہاں ایک بجلی کا سب سٹیشن اور پانی کی اونچی ٹنکی ہے۔

قریبی دیہات یفرین میں ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ لڑائی کے دوران چار باغی ہلاک جبکہ سترہ زخمی ہوئے۔

باغیوں کی پیشقدمی کو نیٹو کی فضائی مدد بھی حاصل رہی اور منگل کو انہوں نے کرنل قذافی کی فوجوں کی دو بکتر بند گاڑیوں اور دو ٹینکوں کو نشانہ بنایا۔

ایک باغی رہنماء نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’ہم نے حملہ کرنے سے پہلے نیٹو کی جانب سے گرین سگنل کا انتظار کیا اور جیسے ہی ہمیں یہ اشارہ ملا، ہم نے پیشقدمی کی۔‘

گاریان، کرنل قذافی کی فوجوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور باغیوں کا دارالحکومت کی جانب پیشقدمی کے لیے اس علاقے کو حاصل کرنا بہت اہم ہے۔

منگل کو مشرقی شہر بریقہ میں بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں جبکہ اسی قسم کی اطلاعات تیونس کے سرحد کے ساتھ واقع نفوسا کے پہاڑوں سے بھی ملی ہیں۔

نفوسا میں گزشتہ ماہ فرانسیسی طیاروں نے باغیوں کے لیے علاقے میں ہتھیار پھینکے تھے جس سے باغیوں کی سرگرمیوں کو تقویت ملی ہے۔

اسی دوران، باغیوں نے مغربی شہر مصراتہ میں منگل کو اپنے قبضے کو مزید مستحکم کرنے کے بعد شہر کے جنوب اور مغرب کی جانب بھی اپنے جنگجوؤں کو بھیجا ہے۔

مصراتہ میں گزشتہ چند ہفتوں سے شدید لڑائی جاری ہے اور خدشہ ہے کہ سرکاری فوجوں کے حملے کے نتیجے میں باغیوں کو پسپا ہونا پڑے۔

منگل کو مصراتہ میں شدید لڑائی کے دوران گیارہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

باغیوں کا اصرار ہے کہ کرنل قذافی کو اقتدار سے علٰیحدہ ہونا ہو گا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنباغیوں کا اصرار ہے کہ کرنل قذافی کو اقتدار سے علٰیحدہ ہونا ہو گا

تاہم مصراتہ میں موجود بی بی سی کے نمائندے گیبریئل گیٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ فریقین میں سے کسی نے بھی کوئی خاص پیش رفت حاصل نہیں کی ہے۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے دافنیا کے مغرب کے مضافاتی علاقے میں سات کلومیٹر طویل خندق کھودی ہے۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ وہاں موجود علاقہ جو نائمہ کے نام سے جانا جاتا ہے اُن کے مکمل قبضے میں ہے۔

باغیوں کا لیبیا کے زیادہ تر مشرقی علاقوں پر قبضہ ہے جبک مصراتہ اور نفوسا کے پہاڑوں پر بھی کئی علاقے ان کے قابو میں ہیں۔

فروری میں لیبیا کی حکومت کے خلاف مظاہروں نے بغاوت کی شکل اختیار کرلی تھی اور اس وقت سے حکومت اور باغیوں کے درمیان جمود طاری ہے جبکہ نیٹو کی سربراہی میں فضائی حملوں سے بھی قذافی کی حکومت پر کوئی دباؤ نہیں پڑا ہے۔

نیٹو اور عرب ریاستوں کی جانب سے شہریوں کی حفاظت کے لیے ذمہ داری سونپنے کے بعد سے قذافی کی فوجوں کے ٹھکانوں پر کوئی تین ماہ سے بمباری جاری ہے۔

تاہم اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے لیے اب دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ باغیوں کا اصرار ہے کہ کرنل قذافی کو اقتدار سے علٰیحدہ ہونا ہو گا۔

بدھ کو نیٹو کے سکریٹری جنرل آندرے فو راسموسین نے کہا کہ ان کے پاس کرنل قذافی کے اقتدار سے ہٹنے کے امکانات کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔

تاہم انہوں نے کہا ’اس معاملے کا اختتام اسی وقت ہوگا جب وہ اقتدار سے الگ ہوجائیں۔‘