لیبیا میں باغی کمانڈر ہلاک

کئی ملک پہلے ہی لیبیا کی اندونی محاذ آرائی میں ایک فریق کی مدد کرنے پر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکئی ملک پہلے ہی لیبیا کی اندونی محاذ آرائی میں ایک فریق کی مدد کرنے پر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں

لیبیا میں باغی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے ایک فوجی کمانڈر جنرل عبدالفتح یونس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

باغیوں کی کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل کا کہنا ہے کہ جنرل یونس کو ایک مسلح گینگ نے اس وقت ہلاک کیا جب وہ ایک عدالتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے محاذ سے واپس آئے تھے۔

فروری میں مسلح مزاحمتی تحریک شروع ہونے سے پہلے تک وہ کرنل معمر قذافی کی حکومت میں وزیر داخلہ تھے۔ لیکن مزاحمتی تحریک شروع ہونے کے بعد وہ حکومت کو چھوڑ کر باغیوں سے آ ملے۔

طرابلس میں بی بی سی ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ باغی مکمل طور پر جنرل یونس پر اعتماد نہیں کرتے تھے جبکہ حکومت کے حامیوں کے لیے وہ ایک غدار تھے۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیبیا کے بحران کے سامنے آنے کے بعد پہلی مرتبہ اختلافات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ میں جنوبی افریقہ کے مندوب باسو سینگکو نے خبر دار کیا ہے کہ ہو سکتا ہے باغیوں کے حامی اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہے ہوں۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی طرف سے کسی ملک کے اندرونی معاملے میں کسی ایک فریق کا ساتھ دینے سے ایک خطرناک نظیر قائم ہو جائے گی۔

جنوبی افریقہ کے مندوب کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دو روز پہلے ہی برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ لیبیا کے تیل کے اثاثے غیر منجمد کر کے باغیوں کی مدد کرے گا۔

سکیورٹی کونسل کے کئی ارکان پہلے ہی لیبیا کی اندونی محاذ آرائی میں ایک فریق کی مدد کرنے پر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔